السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک کمپنی میں اکاؤنٹنٹ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ مینیجر کی نوکری بھی اس کمپنی میں کر رہا ہوں، کام کا دورانیہ 07-10 ہے، جبکہ ایکسپورٹ کا کام کبھی کبھی مہینے میں 4-5 دن رات پر بھی کام کرنا پڑتا ہے جس کی کوئی میعاد نہیں، چاہے رات 4 بج جائیں یا صبح کے 6 اور اس اضافی کام کا پیسہ نہیں دیا جاتا ،کہا جاتا ہے کرنا ہے کریں ورنہ اپنا راستہ ناپیں، آج کل نوکری اتنی ہے نہیں کہ بندہ چھوڑ کر جائے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا فیکٹری کے لئے یہ زیادہ وقت لینا اور اس کا پیسہ نہ دینا جائز ہے؟ کیا میں ان پیسوں کا مطالبہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کر سکتا ہوں ؟ جواب عنایت فرمادیں۔
سائل نے سوال میں وضاحت کے ساتھ یہ بات نہیں لکھی کہ مذکور کمپنی میں سائل کی بنیادی ذمہ داری اکاؤنٹنٹ کی ہے یا مینیجر کی ہے ؟ یا دونوں چیزیں سائل کی ذمہ داری میں شامل ہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر ابتداء سائل کی ایکسپورٹ ذمہ داریوں میں سے اکاؤنٹنٹ کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ مینیجر کی ذمہ داریوں کو شامل کیا گیا ہو، اور ان مجموعی ذمہ داریوں کے مقابلے میں سائل کے لئے معاوضہ ( تنخواہ) طے کیا گیا ہو ، تو ایسی صورت میں چونکہ ایکسپورٹ کی ذمہ داریاں سائل کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوں گی، اس لئے اس کے عوض اسے اضافی تنخواہ کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا، البتہ اگر ایکسپورٹ کی ذمہ داریاں سائل کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل نہ ہوں اور اس کے لئے سائل کو اضافی وقت دیکر ان ذمہ داریوں کوپورا کرنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اس اضافی کام کی اجرت کا مطالبہ بلاشبہ جائز اور درست ہو گا، اور کمپنی کا سائل سے اضافی اوقات میں سائل کی دلی رضامندی کے بغیر بلا عوض کام لینا سراسر ظلم اور حق تلفی پر مبنی عمل ہے جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے کمپنی ذمہ داروں کو اجتناب لازم ہے۔
كما في صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " قال الله: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعط أجره " اھ (3/ 83)
وكما في سنن ابن ماجه: عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه» اھ (2/ 817)
و في الإتحافات السنية بالأحاديث القدسية: الثالث: رجل استأجر أجيرًا، وعاملًا بأجر مخصوص، وعمل كذلك، فاستوفى منه عمله، ولم يعطه أجره، وهذا يصدق بأن استخدمه، وأعطاه أقل مما يستحق، أو منعه أجره، ولم يعطه شيئًا منه، وهذا أيضًا من باب التعبد، والاستخدام بغير أجرة،ولأنه استوفى منفعته بغير عوض، فهو ظالم له، وقد ورد الترغيب بإعطاء الأجير أجره قبل أن يجف عرقه. رواه ابن ماجه، والطبراني وغيرهما. (ص: 124)
و في الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى اھ (6/ 69)