اگر لڑکی خلع لینا چاہتی ہے تو حق مہر دینا ضروری ہے؟
واضح ہو کہ عورت کا بلا عذر ِشرعی اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، ایسی عورت کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہیں جو بلا وجہ اپنے شوہر سے طلاق وغیرہ کا مطالبہ کرے ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگرعورت کسی مجبوری کی صورت میں اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے اور شوہر نے ابھی تک حق مہر ادا نہ کیا ہو،توخلع ہو جانےکی صورت میں شوہر پر حق مہر کی ادائیگی لازم نہ ہوگی ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ(البقرہ:228)-
وفی الدرالمختار: قال) الزوج (خالعتك فقبلت) المرأة ولم يذكرا مالا (طلقت) لوجود الإيجاب والقبول (وبرئ عن) المهر (المؤجل لو) كان (عليه وإلا) يكن عليه من المؤجل شيء (ردت) عليه (ما ساق إليها من المهر المعجل) لما مر أنه معاوضة فتعتبر بقدر الإمكان.(3/459)-
وفی ردالمحتار: (قوله وبرئ عن المهر المؤجل إلخ) ذكر في الخلاصة والبزازية أنه في الصورة يبرأ كل واحد منهما عن صاحبه في إحدى الروايتين عن أبي حنيفة، وهو الصحيح وإن لم يكن على الزوج مهر فعليها رد ما ساق إليها من المهر لأن المال مذكور عرفا بذكر الخلع اهـ(3/459)-