کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کے جدید اور ماڈرن دور میں جب کہ سائنسی ایجادات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور انہیں اسلام کے ساتھ محبت پیدا کرنے کےلیے بازاروں میں کچھ سی ڈیز فروخت ہوتی ہیں، جس میں انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام اور دوسرے مسلمان رہنماؤں کی تصاویری فلم بنائی گئی ہوتی ہے ، اسی طرح جنگ بدر اور جنگ اُحد وغیرہ غزوات کی ویڈیوز بنائی گئیں ہیں جس میں باقاعدہ صحابہ کرامؓ کا نام لے کر پکارتے ہیں، حجاج بن یوسف اور عبداللہ بن زبیر کے حالاتِ جنگ کی ویڈیو بنائی گئی ہے جس میں عبداللہ بن زبیر اور ان کی والدہ کو باقاعدہ ناموں سے پکارتے ہیں کیا اس قسم کی ویڈیوز دیکھنا بنانا یا فروخت کرنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو فروخت کرنے والوں اور بنانے والوں کے لیے کیا حکم ہے؟ نیز علماء کی اس حوالے سے کیا ذمہ داری بنتی ہے وضاحت فرمائیں؟
۱۔ قرآن کریم کے مضامین اور ان بزرگ شخصیات کے واقعات جس عظمت و جلال کے حامل ہیں، اس کا تقاضا یہ ہے کہ انکو ان ہی الفاظ میں پورے ادب و احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جائے ، اس کے برعکس پیشہ ور اداکاروں ، بہروپیوں کو مقّدس و مسلّمہ شخصیات کی مصنوعی شکل میں پیش کرکے ان سے عظیم واقعات کی نقالی کرانا،آیاتِ قرآنی کو کھیل تماشا بنانے کے مترادف ہے ، جو بنصِ قرآنی حرام ہے ، آیت یہ ہے:
﴿وَذَرِ الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَہمْ لَعِبًا وَ لَہوًا وَ غَرَّتْہمُ الْحَیاۃ الدُّنْیا وَ ذَکرْ بِہ أَنْ تبسَلَ نَفْسٌ بِمَا کسَبَتْ لَیسَ لَہا مِنْ دُونِ اللَّہ وَلِی وَلَا شَفِیعٌ وَ إِنْ تَعْدِلْ کلَّ عَدْلٍ لَا یؤْخَذْ مِنْہا أُولَئِک الَّذِینَ أُبْسِلُوا بِمَا کسَبُوا لَہمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابٌ أَلِیمٌ بِمَا کانُوا يَیکفُرُونَ﴾ (الأنعام: 70)
2۔ کوئی فلم جانداروں کی تصویر وں سے خالی نہیں ہوتی، اور جانداروں کی تصاویر بنانا، دیکھنا اور دکھلانا شرعاً جائز نہیں ، لہذا مذکور قرآنی مضامین اور صحابہ و اولیاء اللہ کے واقعات کو ایسے ذرائع سے پیش کرنا جو درجنوں احادیث کی رو سے ناجائز ہے ، نہ صرف حرام ،بلکہ قرآن کریم اور ان پاکیزہ شخصیات کی توہین کے مترادف ہے ۔
3۔ واقعات کی فلم اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں عورتوں کے کردار نہ ہوں، چنانچہ مذکور فلموں میں بھی یقینی طور پر ان کے کردار موجود ہیں ، اور خواتین کیلیے بے حجاب مردوں کے سامنے آنا یا اُ ن کی تصاویر کا بلاضروت نامحرموں کو دکھلانا قرآن و حدیث کی رُو سے بالکل ناجائز ہے ، اور ناجائز کام کو مضامینِ قرآنی بیان کرنے کیلیے ذریعہ بنانا بھی نہ صرف حرام، بلکہ معاذ اللہ آیاتِ قرآنی اور ان بزرگ شخصیات کی توہین کے مترادف ہے۔
4۔ فلم کا اصل منشاء تعلیم و تبلیغ نہیں، بلکہ تفریحِ طبع اور کھیل تماشوں سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے ، لہٰذا مذکور فلموں کو دیکھنے والے تفریحِ طبع کی غرض سے فلم دیکھیں گے، نہ کہ علم، عبرت یا نصیحت حاصل کرنے کیلیے ،جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اگر یہی مضامین اپنی اصلی صورت میں وعظ و تذکیر کیلۓ بیان کیے جاتے ، تو یہ لوگ اس میں شریک ہونے کیلیے تیار نہ ہوتے، اس لیے مذکور قرآنی مضامین او ربزرگوں کے واقعات کے دیکھنے ، دکھانے کا مقصدِ اصلی ،کھیل تماشہ سے لذت حاصل کرنا اور تفریحِ طبع کو بنا لینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
مذکور بالا وجوہ کی بناپر،نیز دوسرے مفاسد کے پیشِ نظر ایسی فلموں کا بنانا ، دیکھنا ، دکھانا سب ناجائز ہیں۔
عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ انہیں اس فعل سے باز رہنے پر آمادہ کریں اور اگر وہ اس ناجائز طرزِ عمل سے باز نہ آئیں تو اِن کے ساتھ قطع تعلق بھی کیا جا سکتا ہے اورحکومت کا بھی فرض ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایسی فلمیں دکھانے سے باز رہے، بلکہ آئندہ اس قسم کی فلموں کی نمائش کا مکمل طور پر سدِباب کرے۔
وفی معجم الکبیر: حدثنا الحسن بن علوية القطان ثنا عباد بن موسى الختلي ثنا إسماعيل بن جعفر عن حبيب بن حسان عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون اھ (10/57)۔
وفی ریاض الصالحین: وعن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول : (( كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفس فيعذبه في جهنم )) . قال ابن عباس : فإن كنت لا بد فاعلا ، فاصنع الشجر وما لا روح فيه. متفق عليه اھ
وعنه ، قال : سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ، يقول : (( من صور صورة في الدنيا ، كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة وليس بنافخ )) . متفق عليه . (2/250)۔
و فی تکملة فتح الملھم: والفدیو فلاشك فی حرمة استعمالھا بالنظر إلی مایشتملان علیه من المنكرات الكثیرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرّجات او العاریات وما إلی ذلك من اسباب الفسوق۔ اھ (۴/۱۶۴)۔