1.کیا سید ہ کا غیرسیدسےنکاح جائزہےیانہیں؟ امام ابو حنیفہ کےفتویٰ کی روشنی میں وضاحت کر دیجیے۔
2.کیا سید زادے کا غیرسید لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اس کی بھی فقہ حنفی کے مطابق وضاحت کر دیجیے۔
واضح ہو کہ سید زادی کا نکاح اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید سے درست نہیں، البتہ سیدہ کے اولیاء اگر غیر سید کے ساتھ نکاح پر راضی ہوں تو ایسا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے،جبکہ سید لڑکے کا نکاح غیر سید لڑکی سے درست ہے،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں-
ففی الدر المختار: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح اھ (3/ 84)
وفی بدائع الصنائع: وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم اھ (2/ 317)