نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
60749
| تاریخ :
2022-11-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے نکاح کا حکم

1.کیا سید ہ کا غیرسیدسےنکاح جائزہےیانہیں؟ امام ابو حنیفہ کےفتویٰ کی روشنی میں وضاحت کر دیجیے۔
2.کیا سید زادے کا غیرسید لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ اس کی بھی فقہ حنفی کے مطابق وضاحت کر دیجیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سید زادی کا نکاح اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید سے درست نہیں، البتہ سیدہ کے اولیاء اگر غیر سید کے ساتھ نکاح پر راضی ہوں تو ایسا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے،جبکہ سید لڑکے کا نکاح غیر سید لڑکی سے درست ہے،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں-


مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح اھ (3/ 84)
وفی بدائع الصنائع: وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم اھ (2/ 317)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60749کی تصدیق کریں
0     1318
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات