گناہ و ناجائز

موجودہ غیر اسلامی عدالتی و قانون ساز اداروں میں شمولیت و ملازمت

فتوی نمبر :
60738
| تاریخ :
2009-03-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

موجودہ غیر اسلامی عدالتی و قانون ساز اداروں میں شمولیت و ملازمت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ ایسے اداروں میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کا کیا حکم ہے جو ادارے قرآنی قوانین، حدود اللہ کے متوازی قانون سازی کرتے ہوں جیسے جرگہ سسٹم یا پارلیمنٹ؟
۲۔ ایسے افراد کا کیا حکم ہے جو قرآنی قوانین کے مقابل بنائے گئے قوانین پر فیصلہ کرتے ہیں جیسے کوئی مسلمان قاضی یا جج چور کی سزا حدِسرقہ کے بجائے مختلف دفعات جو کہ پارلیمنٹ میں موجود انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں کے تحت قید یا کوئی او رسزا تجویز کرے۔
۳۔ ایسے ادارے یا افراد کے ساتھ تعاون کرنے کا کیا حکم ہے؟ عند الشرع جو قرآن میں نازل کردہ حدود کے بجائے انسانی اختراع شدہ قوانین کے مطابق فیصلہ کریں مثلاً ایسا جرگہ سسٹم یا عدالت جہاں قرآنی قوانین کے خلاف فیصلے ہو رہے ہوں،ان میں شرکت یا معاونت کسی بھی اعتبار سے کرنا جیسے ملازمت اختیار کرنا یا وکالت کے پیشے کو اختیار کرکے ایسے اداروں کو مستحکم کرنا، اس کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دیندار اور اہلِ علم حضرات کو اس قسم کے کلیدی اور قانون ساز اداروں کا رُکن بننا اور عوام کا اس قسم کے اداروں کے لیے دینی ذہن رکھنے والے اور اہلِ علم ارکان کا انتخاب کر کے انہیں شامل کرانا ضروری ہے تا کہ اہلِ باطل اور اُن کے غلط نظام کا راستہ روکا جا سکے اور اگر کوئی ان باطل قوانین کی اصلاح کی غرض سے ان اداروں میں شمولیت کرے تو وہ قابلِ تعریف اور جو ان اداروں کے ہر باطل اور قرآن و سنت سے متصادم قانون کی حفاظت کی غرض سے شمولیت کرے وہ یقیناً گمراہی پر ہے، اسے حقیقتِ حال سمجھانے کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ (الأنعام: 68)۔
وقال اللہ تعالیٰ: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2)۔
وفی التفسير المظهري: وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات و لا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام الخ (3/ 19)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60738کی تصدیق کریں
0     933
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات