کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید عمرو پر اپنا رعب جھاڑنے کے لیے اور اس کو اپنی آواز کا اسیر بنانے کے لیے کوئی دینی کام کرے مثلاً لاؤڈ سپیکر میں اذان دینا یا لاؤڈ میں اقامت کہنا اور عمرو کو قابو کرنے کے لیے خودکو صفِ اوّل کا نمازی اور بزرگ ظاہر کرنا کیسا ہے؟ جبکہ یہ سب دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہو ، واضح ہو کہ عمرو ہمیشہ اسی مسجد میں نماز ادا کرتا ہے اور جب مطلب حل ہو جائے تو وہ دینی کام مثلاً اذان، اقامت کہنا صفِ اوّل میں بیٹھنا چھوڑ دے، ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ ایسی اذان و اقامت کی صورت میں قائم ہونے والی نماز کا کیا حکم ہے؟
کوئی بھی عبادت مذکور مقاصد کے لیے ادا کرنا، ریا میں داخل ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے لیے بہت سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ایسے گھٹیا مقاصد کے لیے اپنی اہم ترین عبادت کو ضائع کرنا حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، مگر کسی مسلمان پر خواہ مخواہ ریاکاری کی تہمت لگانا یا اس کے متعلق بدظنی پھیلانا اور اس کے صفِ اوّل میں نماز پڑھنے اور اذان و اقامت کہنے کو اسی پر محمول کرنا اور لوگوں میں اسے ’’ریا کار‘‘ مشہور کرنا بھی جائز نہیں،جس سے اجتناب واجب ہے۔
البتہ ایسے افراد کی اذان سے ادا شدہ نمازیں بہرحال جائز اور درست ہو چکی ہیں۔
ففی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، و لا تحسسوا، و لا تجسسوا، و لا تنافسوا، و لا تحاسدوا، و لا تباغضوا، و لا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا»(4/ 1985)۔
و فی حاشیة صحيح مسلم: (إياكم والظن) المراد النهي عن ظن السوء قال الخطابي هو تحقيق الظن و تصديقه دون ما يهجس في النفس فإن ذلك لا يملك و مراد الخطابي أن المحرم في الظن ما يستمر صاحبه عليه و يستقر في قلبه دون ما يعرض في القلب و لا يستقر فإن هذا لا يكلف به(4/ 1985)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله ومن صلى أو تصدق إلخ) اعلم أن إخلاص العبادة لله تعالى واجب و الرياء فيها، و هو أن يريد بها غير وجه الله تعالى حرام بالإجماع للنصوص القطعية، و قد سمي - عليه الصلاة والسلام - الرياء: الشرك الأصغر، و قد صرح الزيلعي بأن المصلي يحتاج إلى نية الإخلاص فيها، و في المعراج: أمرنا بالعبادة و لا وجود لها بدون الإخلاص المأمور به، و الإخلاص جعل أفعاله لله تعالى و ذا لا يكون إلا بالنية اهـ. و قال العلامة العيني في شرح البخاري: الإخلاص في الطاعة ترك الرياء و معدنه القلب اهـ. (6/ 425)۔