کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خطیب صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے بات کی، او جبرائیل تو سدرہ کے مقام پر بے وفائی کر گیا کاش وہاں ابوبکر وعمر ہوتے وہ اعلان کرتے ہم رسول اللہ کی معیت میں ہم رسول اللہ کے رفیق سفربن کر جل بھی جائیں سڑ بھی جائیں لیکن پھر بھی محمد عربی کا دامن نہیں چھوڑیں گے، معلوم یہ کرنا تھا کہ ہمیں علماء کرام نے یہ بتایا ہے کہ جبریل امین سفر معراج میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سدرۃ المنتہی کے مقام تک گئے تھے، اورجبرائیل امین کا سدرہ کے مقام رک جانا اور آگے کا سفر رسول اللہ ﷺ نے اکیلے کرنا تھا، یہ اللہ کا حکم تھا نہ کہ جبرائیل امین کی بے وفائی کی وجہ سے تھا،تو کیا جبرائیل امین کو اس بے ہودہ طریقے سے مخاطب کرنا اور جبرئیل امین کا اللہ کے حکم پر عمل کو بے وفائی کہنا گستاخی نہیں ؟اور ابوبکر و عمر کو جبرائیل امین پر ترجیح دینا، اور کیا شیخین کا عمل اللہ کے حکم سے بڑھ کر ہوسکتا ہے ؟
واضح ہو کہ سدرۃ المنتہی کے مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا رکنا ،اور آپ ﷺ کے ساتھ مزید سفر نہ کرنا، بے وفائی کی بناء پر نہیں تھا، بلکہ انہیں اجازت ہی اس حد تک سفر کرنے کی تھی، لہذا مذکور خطیب صاحب کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اور فضائل اس انداز سے بیان کرنا، کہ جس سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی شان اقدس میں کوئی بے ادبی یا کمی کوتاہی لازم آئے قطعا مناسب نہیں، لہذا خطیب صاحب موصوف کو آئندہ کے لئے اس طرز عمل سے اجتناب کرنا چاہئیے۔
كما في مشكاة المصابيح :وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من نبي إلا وله وزيران من أهل السماء ووزيران من أهل الأرض فأما وزيراي من أهل السماء فجبريل وميكائيل وأما وزيراي من أهل الأرض فأبو بكر وعمر . رواه الترمذي (1710/3)
وفي المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:في شفاء الصدور من حديث ابن عباس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بعد أن ذكر مبدأ حديث الإسراء، كما ورد فى الأمهات أتاني جبريل وكان السفير بي إلى ربى إلى أن انتهى إلى مقام ثم وقف عند ذلك، فقلت: يا جبريل، في مثل هذا المقام يترك الخليل خليله ؟ فقال: إن تجاوزته احترقت بالنور. ام (2/482)