السلام علیکم مفتی صاحب! ہماری مسجد میں NGOS ( جو کہ حکومت کی NGO ہے) نے ایک لیٹرین بنائی ہے ، کیا ان پیسوں سے لیٹرین بنانا جائز ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ ‘‘الآیۃ ، شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
کسی غیر مسلم تنظیم کی کسی رفاہی کام وغیرہ میں معاونت اگر اس بناء پر ہو کہ اس کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے مذہب و ملت کی طرف آمادہ کرنے میں سہولت ہوگی، اور مسلمانوں کو اُن کے اِن باطل نظریات کا علم ہو جائے تو اس صورت میں اُن سے معاونت لینا بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے، بلکہ ایسی چیز کو نیست و نابود کر دینا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اگر ایسی صورتِ حال نہ ہو، بلکہ اُن کا یہ فعل محض انسانیت کی نفع رسانی کی غرض سے ہو اور اُن کے مذہب میں یہ طاعت شمار ہوتا ہو ، پھر ایسی اشیاء کا بنانا جائز اور اُن کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
ففی التفسير المظهري: نھوا عن موالاتھم بقرابة او صداقة و نحو ذلك او عن الاستعانة بھم فى الغزو و سائر الأمور الدينية من دون المؤمنين اھ (2 /32)۔
و فی تفسير الألوسي و روح المعاني: و ذكر بعضهم جواز الاستعانة بشرط الحاجة و الوثوق أما بدونهما فلا تجوز و على ذلك يحمل خبر عائشة، و كذا ما رواه الضحاك عن ابن عباس في سبب النزول- و به يحصل الجمع بين أدلة المنع و أدلة الجواز- على أن بعض المحققين ذكر أن الاستعانة المنهي عنها إنما هي استعانة الذليل بالعزيز و أما إذا كانت من باب استعانة العزيز بالذليل فقد أذن لنا بها اھ (2/ 116)۔
و فی تکملة فتح الملھم: والذي یتخلص من مجموع الروایات أنّ الأمر في الاستعانة بالمشرکین موکول إلی مصلحة الإسلام و المسلمین، فإن کان یؤمن علیهم من الفساد، وکان في الاستعانة بهم مصلحة فلا بأس بذلك إن شاء اللہ إذا کان حکم الإسلام هو الظاهر، و یکون الکفار تبعًا للمسلمین، و إن کان للمسلمین عنهم غنی أو کانوا هم القادة و المسلمون تبعًالهم أو یخاف منهم الفساد فلایجوز الاستعانة بهم اھ(3/249)۔
و فی البحر الرائق: و اما الاسلام فلیس من شرطه فصح وقف الذمی بشرط کونه قربة عندنا و عندھم اھ (5/316)۔
و فی رد المحتار: أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا و عندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس الخ (4/341)۔
و في الفتاوى الهندية: و أما الإسلام فليس بشرط فلو وقف الذمي على ولده و نسله و جعل آخره للمساكين جاز و يجوز أن يعطي المساكين المسلمين و أهل الذمة و إن خص في وقفه مساكين أهل الذمة جاز اھ(2/ 352)۔