کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اذان و اقامت میں ’’أشہد أن محمداً الرسول اللہ‘‘ کے جواب میں درود شریف بھی پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کوئی پڑھے تو وہ گناہ گار ہوگا یا نہیں؟
مذکورہ جملہ کے جواب میں بھی یہی جملہ ہی دہرانا مسنون ہے، درود شریف پڑھنے کی ضرورت نہیں، البتہ کوئی شخص اگر آپ علیہ السلام کے نام مبارک کی وجہ سے اس کے ساتھ دورد بھی پڑھ لے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں اگر چہ بہتر یہ ہے کہ درود شریف اذان ختم ہونے کے بعد پڑھا جائے۔
ففی صحيح مسلم: عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه سمع النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: ’’إذا سمعتم المؤذن، فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاة - صلى الله عليه وسلم - بها عشرا، ثم سلوا الله لي الوسيلة، فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله، وأرجو أن أكون أنا هو، فمن سأل لي الوسيلة حلت له الشفاعة‘‘ اھ(1/ 288)۔