گناہ و ناجائز

مالی تنگی کی وجہ سے اسقاطِ حمل کرانا

فتوی نمبر :
60455
| تاریخ :
2000-02-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مالی تنگی کی وجہ سے اسقاطِ حمل کرانا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک صاحب کی اہلیہ کو ایک ماہ کا حمل ہے، وہ صاحب خود بھی اور ان کی اہلیہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس حمل کو ساقط کریں، حمل ساقط کرانے کی وجہ سے ایک تو کچھ مالی تنگی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اب دوسری اولاد بڑی ہوگئی ہے، اب اولاد کا ہونا ان میاں بیوی کو اچھا نہیں لگتا ،آیا ایسی صورت میں شرعاً اسقاطِ حمل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شریعتِ مطہرہ نے بعض وجوہ کی بناء پر اسقاطِ حمل کی اجازت دی ہے مگر سوال میں مذکور وجوہات کی بناء پر حمل کا اسقاط قطعاً ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز واجب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال تعالٰی: و لا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاقٍ نحن نرزقہم و ایاکم إن قتلہم کان خطأً کبیرًا۔ (سورۂ بنی اسرائیل)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60455کی تصدیق کریں
0     760
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات