کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک صاحب کی اہلیہ کو ایک ماہ کا حمل ہے، وہ صاحب خود بھی اور ان کی اہلیہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس حمل کو ساقط کریں، حمل ساقط کرانے کی وجہ سے ایک تو کچھ مالی تنگی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اب دوسری اولاد بڑی ہوگئی ہے، اب اولاد کا ہونا ان میاں بیوی کو اچھا نہیں لگتا ،آیا ایسی صورت میں شرعاً اسقاطِ حمل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
شریعتِ مطہرہ نے بعض وجوہ کی بناء پر اسقاطِ حمل کی اجازت دی ہے مگر سوال میں مذکور وجوہات کی بناء پر حمل کا اسقاط قطعاً ناجائز اور حرام ہے، اس سے احتراز واجب ہے۔
قال تعالٰی: و لا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاقٍ نحن نرزقہم و ایاکم إن قتلہم کان خطأً کبیرًا۔ (سورۂ بنی اسرائیل)۔