گناہ و ناجائز

حضرت علیؓ کے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھنا

فتوی نمبر :
60441
| تاریخ :
2009-10-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حضرت علیؓ کے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھنا

کیا فرماتے ہیں علماٰءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایسے میسج چل رہے ہیں جن میں حضرت علی کے ساتھ AS لکھا ہوتا ہے جس کا مطلب ہے علیہ السلام، کیا یہ لکھنا درست ہے؟ میں تو RA لکھتا ہوں یعنی رضی اللہ عنہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

’’علیہ السلام‘‘ کہنا اگرچہ سلامتی کی دعا ہے اور یہ کسی بھی مسلمان کو دی جاسکتی ہے مگر ان الفاظ کے ساتھ کسی شخصیت کے تذکرہ کرنے سے اس کے نبی ہونے کا اشتباہ ہوتا ہے اس لئے کہ عرف میں یہ انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے، لہٰذا غیر نبی کیلئے اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: و لا یصلی علی غیر الانبیاء و لا غیر الملائکۃ الّا بطریق التبع۔
و فی رد المحتار: و اما السلام فنقل اللقانی فی شرح جوہرۃ التوحید عن الامام الجوینی انہ فی معنی الصلوٰۃ ، فلا یستعمل فی الغائب و لا یفرد بہ غیر الانبیاء فلا یقال علی علیہ السلام و سواء فی ہذا الاحیاء و الاموات الّا فی الحاضر فیقال السلام، او سلام علیک او علیکم و ھذا مجمع علیہ والظاہر ان العلۃ فی منع السلام ما قالہ النووی فی علۃ منع الصلوٰۃ ان ذلک شعار اہل البدع و لان ذالک مخصوص فی لسان السلف بالانبیاء علیہم السلام کما ان قولنا عزوجل مخصوص باللہ تعالٰی فلا یقال محمد عزوجل و إن کان عزیزًا جلیلًا۔ الخ (ج۶، ص۷۵۳)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60441کی تصدیق کریں
0     1312
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات