کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(الف) ایک ڈاکٹر ہے ، اس کی کلینک کے بالمقابل ادویات کے دو میڈیکل اسٹور ہیں ، ایک زید کا اسٹور ہے دوسرا خالد کا ہے ، یہ ڈاکٹر اپنے پاس آئے ہوئے مریض کو جب نسخہ لکھ کر دیتا ہے ، تو ذیل میں یہ وضاحت بھی کردیتا ہے کہ یہ نسخہ زید کی دوکان سے لینا ، نا کہ خالد کی دوکان سے، حالانکہ ادویات کی قیمتیں دونوں اسٹوروں پر یکساں ہے ، اور ڈاکٹر کی یہ وضاحت خود کے مفاد پر مبنی ہے ، یعنی ڈاکٹر کو کمیشن ملتا ہے ، اب آیا مذکور ڈاکٹر کا یہ عمل از روئے شریعت درست ہے یا نہیں؟
(ب) کمپنی کے سیلز مین ، ایک ڈاکٹر کو بطورِ سیمپل ادویات فراہم کرتا ہے ، اور ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ اگر مریض کو ہمارا نسخہ لکھ کر دو گے ، تو کمپنی کی طرف سے آپ پرسنٹیج کے مستحق ہوں گے ، مثلاً ایک سو روپے کی دوامیں ، بیس روپے ڈاکٹر کو ملیں گے، اگر یہ پرسنٹیج ڈاکٹر مسترد کردے تو پھر یہ پرسنٹیج سیلز مین لیتا ہے ، کیونکہ کمپنی کی طرف سے پرسنٹیج بہرصورت ملتا ہے ، اب مذکور ڈاکٹر اور سیلز مین کے درمیان یہ معاہدہ درست ہے یا نہیں؟
(ج) ڈاکٹر کے پاس مریض جاتا ہے اور ڈاکٹر مریض کو لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کو کہتا ہے ، اور ساتھ میں یہ وضاحت کرتا ہے کہ فلاں لیبارٹری سے ٹیسٹ کرائیں اور اس لیبارٹری کیلئے ایک رقعہ بھی فراہم کردیتا ہے اور مذکور لیبارٹری کی ٹیسٹ فیس دیگر لیبارٹریز کی سی ہے یا اس سے بھی پانچ دس روپے کم ہے اور یہ لیبارٹری والے فی ٹیسٹ راقم الرقعہ ڈاکٹر کو ، بیس پچیس روپے دیتے ہیں ، اب آیا یہ معاملہ اور معاہدہ از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟
امید کافی ہے کہ تمام مسائل کا از روئے شریعت مفصل اور مدلل جواب اور حل نکال کر شکریہ کا موقع دیں گے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور تینوں امور میں ، اگر مریض کو کسی قسم کا دھوکہ نہ دیا جاتا ہو ، اور نہ ہی ڈاکٹر ناقص کارکردگی والی ادویہ تجویز کرتا ہو ، اور اس بیماری کیلئے اس سے بہتر و عمدہ اور سستی کوئی دوسری دوا بھی موجود نہ ہو ، اسی طرح متعلقہ میڈیکل اسٹور سے دوائی کی خریداری یا لیبارٹری سے ٹیسٹ وغیرہ بنسبت دوسری جگہوں کے مہنگے دام نہ ہوں ، نیز ڈاکٹر کا کسی کمپنی کی ناقص کارکردگی والی ادویہ کو پاس کرنا ، محض اپنے ذاتی کمیشن اور فوائد کی بنا پر نہ ہو ، اور دیا جانے والا کمیشن بھی طے شدہ ہو ، تو اس صورت میں کسی ڈاکٹر کا ان تینوں امور پر طے شدہ کمیشن لینا اور کمپنی، میڈیکل اسٹور یا لیبارٹری والے کا اسے کمیشن دینا بلاشبہ جائز ہے ، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔