کیا فرماتے ہیں علماءِ دین درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) سائل درزی کا کام کرتا ہے ، جو کپڑا سلائی کے لئے آتا ہے ، بعض اوقات اُن میں سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بچتے ہیں ، تو ان ٹکڑوں کا ہم کوئی پروا نہیں کرتے ہیں ، اور اگر کوئی بڑا ٹکڑا ہو ، تو وہ واپس کردیتے ہیں، چھوٹے ٹکڑوں کا کیا حکم ہے؟
(۲) بعض وقت ایسے کپڑے بھی سلائی کے لئے آتے ہیں کہ اس میں ٹائی کلر اور کف والا بازو ہوتا ہے اس کے بارے میں سلائی کرنے والے کیلئے کیا حکم ہے؟
(۳) سائل ایک فیکٹری میں درزی کا کام ٹھیکے پر کرتا ہے ، کچھ مزدور گھر سے ذاتی کپڑے فیکٹری میں سلائی کے لئے لے جاتے ہیں ، جس پر وقت تو مزدور کا اپنا خرچ ہوتا ہے ، مگر دھاگہ بجلی اور مشین کمپنی کی استعمال ہوتی ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
(۱) ایسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ، جو عام طور پر کسی قسم کے استعمال میں نہیں آسکتے ، ان کو متعلقہ شخص کے حوالے کرنا شرعاً ضروری نہیں ، اور ان کو گرادینے میں شرعاً گناہ بھی نہیں ، اور ایسے ٹکڑے جو عام طور کسی کام میں لائے جاسکتے ہیں (مثلاً جیب یا کسی پھٹن وغیرہ کے) انہیں مالک کے حوالے کردینا چاہئے یا اس کی اجازت سے اپنے استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔
(۲) ٹائی کلر لباس بنانا شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا اس قسم کے غیر شرعی لباس بنانے سے احتراز کیا جائے ، البتہ کف والے بازو بنانے میں کچھ حرج نہیں۔
(۳) اگر متعلقہ فیکٹری کے مالکان کی طرف سے اس کی اجازت ہو ، اور وہ باوجود معلوم ہونے کے ، اس سے منع نہ کرتے ہوں ، تو اس صورت میں متعلقہ فیکٹری کی بجلی وغیرہ استعمال کرنا جائز اور درست ہے۔