کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند مسائل آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ، قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ، شکریہ
(۱) عورتوں کا سر کے بال کتروانا یا کاٹنا کیسا ہے؟
(۲) بھنویں کاٹ کر باریک کروانا کیسا ہے؟
(۳) ہاتھوں اور پاؤں کے بال کریم یا بلیڈ سے صاف کرنا کیسا ہے؟
(۴) ہاتھوں کے ناخن بڑھانا اور ان پر ناخن پالش لگانا کیسا ہے؟
(۱) بالغ اور بڑی عورتوں کا اپنے سر کے بالوں کو چھوٹا کرانا اور کتروانا قطعاً ناجائز ہے ، اس سے احتراز کرنا لازم ہے ، البتہ اگر بالوں کی کوئی ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو کہ جس کی بناء پر بال نہ بڑھتے ہوں یا بڑھتے تو ہوں مگر دو رُخ بن کر ٹوٹ جاتے ہوں اور اس کے علاج کے طور پر بالوں کے کنارے سے کچھ مقدار کا کاٹنا ضروری ہو ،تو اس صورت میں بالوں کے کاٹنے میں کچھ حرج نہیں۔
(۲) اگر اس طرح کرنے میں مخنث اور ہیجڑوں کے ساتھ مشابہت نہ ہوتی ہو ، تو بقدرِ ضرورت ان بالوں کے لینے اور کاٹنے کی گنجائش ہے۔
(۳) ان بالوں کے صاف کرنے کی بھی گنجائش ہے مگر بہتر یہ ہے کہ انہیں نہ کاٹا جائے ۔
(۴) آج کل ناخن بڑھانے کا عام رواج ہوچکا ہے ، جو کہ غیر اسلامی ہونے کی بناء پر سنتِ رسول ﷺ کے بھی خلاف ہے ، اور پھر ان پر پالش لگانے سے صرف زینت ہی نہیں ہوتی ، بلکہ پالش کی تہہ کے نیچے ناخن تک پانی بھی نہیں پہنچتا ، جس کی بناء پر وضو اور غسل بھی نہ ہوتا ، اور جب وضو اور غسل نہ ہوا تو نماز کیونکر درست ہوگی ، اس لئے اس قسم کی لہویات اور غیر مسلموں کی مشابہت سے احتراز ، بہرحال لازم ہے۔
(۱) فی الدر : قطعت شعر رأسہا أثمت و لعنت زاد فی البزازیۃ و إن بإذن الزوج لأنہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ اھـ(ج۶، ص۴۰۷)۔
(۲) و فی الہندیۃ : و لا بأس بأخذ الحاجبین و شعر وجہہ مالم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینا بیع۔ اھـ(ج۵، ص۳۵۸)۔
(۳) و فی الہندیۃ : و فی حلق شعر الصدر و الظہر ترک الادب کذا فی القنیۃ۔ اھـ(ج۵، ص۳۵۸)۔
(۴) و فی الدر المختار : و یستحب قلم أظافیرہ (إلٰی قولہ) إلا إذا أخرہ إلیہ تأخیرًا فاحشًا فیکرہ لأن من کان ظفرہ طویلا کان رزقہ ضیقًا۔ اھـ(ج۶، ص۴۰۵)۔