کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ حکومت نے فوج کے تینوں شعبوں(فضائی، بری اور بحری) کو ایک انگریزی قانون کے تحت یہ آڈر جاری کیا ہے کہ اول تو داڑھی رکھنی نہیں ، اگر لازماً رکھنی ہو تو ہونٹوں سے چار انگشت کی مقدار سے بڑھانے کی ہر گز اجازت نہیں۔اس صورت میں دینِ اسلام کا حکم کیاہے؟ آیا اس حکم کی تعمیل کرکے ملازمت برقرار رکھی جائے یا استعفیٰ دیدیا جائے ؟
اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہو کہ اوپر سطح کے بعض افسران ،بعض فوجی خطباء کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ داڑھی کی اتنی مقدار شرعاً کافی ہے کہ جو چالیس قدم دور کے فاصلے سے نظر آئے ، اس بارے میں وضاحت فرما کر ممنون فرمادیں۔
حکومت کا مذکور قانون شرعاً ناجائز ہونے کی وجہ سے واجب الترک ہے اور اس کی بناء پر استعفیٰ دینے کے بجائے افسران بالا سے مل کر جائز ثابت کرنے کے لیے بہانے تراشنے کے بجائے برائی کو ختم کرکے مؤاخذۂ آخرت سے سبکدوشی حاصل کرے۔
في صحيح البخاري : عَنِ ابْنِ عُمَرَ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَالِفُوا المُشْرِكِينَ : وَفِّرُوا اللِّحَى، وَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ " وَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ»الحدیث(7/ 160)۔
و فی سنن الترمذي : عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمْعُ وَ الطَّاعَةُ عَلَى المَرْءِ المُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَ كَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَ لَا طَاعَةَ»:الحدیث(4/ 209)۔
و فی فتح القدير للكمال ابن الهمام : وَ أَمَّا الْأَخْذُ مِنْهَا وَ هِيَ دُونَ ذَلِكَ كَمَا يَفْعَلُهُ بَعْضُ الْمَغَارِبَةِ وَ مُخَنَّثَةُ الرِّجَالِ فَلَمْ يُبِحْهُ أَحَدٌ۔اھ(2/ 348)۔
و فی المرقاة المفاتيح : و قص اللحیة من صنع الأعاجم و ھو الیوم شعارکثیر من المشرکین کالأفرنج و الھنود و من لاخلاق له فی الدین من الطائفة القلندریة (3/91)۔
و في الدر المختار : أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع و إلا فلا ، الأشباه من القاعدة الخامسة وفوائد شتى، فلو أمر قضاته بتحليف الشهود وجب على العلماء أن ينصحوه و يقولوا له لا تكلف قضاتك إلى أمر يلزم منه سخطك أو سخط الخالق تعالى اھ (5/ 422)۔
و في رد المحتار : و في شرح الجواهر : تجب إطاعته فيما أباحه الشرع ، و هو ما يعود نفعه على العامة ، و قد نصوا في الجهاد على امتثال أمره في غير معصية اھ(6/ 460)۔