گناہ و ناجائز

غیرمسلم سے جادو کروانا اور قبروں میں تعویذات گاڑنا

فتوی نمبر :
60273
| تاریخ :
2021-04-14
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیرمسلم سے جادو کروانا اور قبروں میں تعویذات گاڑنا

محترم السلام علیکم ! چند سال پہلے اپنے ایک دوست سے حسد ، بغض ،نفرت ، دشمنی ، بدلے ناجانے کس کس جذبے کے تحت میں نے ایک عیسائی (عامل)سے تعویذ لیے ،عیسائی عامل سے یہ صاف کہا تھا کہ کالا علم نہیں کروانا ،اس نے بھی یقین دلایا کہ یہ نورانی علم ہے ، مقصد کیا تھا میرا ؟
۱۔دوست بینک میں کام کرتا تھا اور مجھے لگا کہ وہ بینک چھوڑ دےگا ، میرے احسانات اور میری بدولت وہ لگا، یہ میرا خیال تھا جو شاید غلط تھا۔
۲۔اس کی منگیتر تھی جس سے اسے محبت تھی اور مجھے نفرت ، اور میں چاہتا تھا کہ وہ اس سے شادی سے انکار کردے۔
۳۔اس کے دل میں میری محبت پیدا ہو جائے اور وہ میری ہر بات مانے۔
ان مقاصد کیلیے عیسائی نے مجھے مختلف تعویذ دیے، جلانے ،درختوں پر لگانے،راستوں میں ڈالنے،اور تین قبروں میں ڈالنے کے لیے، میں نے یہ سب کیا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے یہ سب کام کیا۔
تین قبروں میں سے دو مسلمان قبریں تھیں جو کہ میرے دور کے رشتہ دار تھے ،میں ٹھیک سے نہیں جانتا انہیں،اور ایک عیسائی کی قبر میں ڈالا ، بعد میں سخت ندامت ،ڈر اور نا جانے کن جذبوں کے تحت میں نے تعویذ واپس نکالنے کا فیصلہ کیا ، یہ بھی خیال تھا کہ شاید اب تینوں کام ہوجائیں گے، بس واپس تعویذ نکال لو۔
ایک مسلمان قبر سےتعویذ نکال کر عیسائی عامل کی ہدایت پر زمین میں دفنادیا ، دوسری مسلمان قبر میں تعویذ ڈالنے کی جگہ میں بھول گیا ،اس وقت سوچ سمجھ کر جو لگا اس جگہ کو کھود کھاد کر دوبارہ بجری وغیرہ ڈال دی کہ شاید تعویذ نکل گیا ہوگا یا زمین پر گر گیا ہوگا ، عیسائی کی قبر سے مجھے نکالنے کا موقع نہیں مل سکا،جگہ بھول گئی، ڈر بھی تھا ،اس کے بعد یہ حالات تھے کہ :
۱۔دوست نے بینک کی نوکری چھوڑ دی اب پتا نہیں وہ تعویذ کا اثر تھا یا نہیں، کیونکہ میرا دباؤ اور لڑائیاں بھی بہت تھی اس پر ۔
۲۔اسی منگیتر سے اس کی شادی ہوگئی۔
۳۔محبت شاید اسے مجھ سے نہیں ہوئی نہ کبھی تھی۔
اس سب کے بعد عیسائی عامل سے جلانے ،اور درختوں کے تعویذ وغیرہ لیے اور اس واقعہ سے پہلے ایک دومسلمان عاملوں سے بھی محبت وغیرہ کے لیے تعویذ لیے، اس سب کا پس منظر نہیں لکھ رہا کہ بات بے حد لمبی ہوجائے گی ۔
حالات پھر بھی کچھ سال خراب ہی رہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ ہم دور ہوتے گئے بعد میں عیسائی سے جو تعویذ لیے وہ جلانے،درختوں پر لگانے کے تھے اور مقصد تھا کہ میرے دوست اور اس کی بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہوجائیں،اب مجھے شدید ندامت، پشیمانی، گناہِ کبیرہ کا احساس ہوتاہے،میں نے دوست کو یہ بات خصوصاً نہیں بتائی، لیکن کئی بار اس سے معافی مانگی ہے کہ میں نے جانے ان جانے جو کچھ بھی تمہارے ساتھ ظلم کیا جو تمہیں پتہ ہے جو تمہیں نہیں پتہ، اس کے لیے مجھے معاف کردو، اس نے ہربار کہا کہ میں نے تمہیں معاف کردیا ،رابطہ اب بھی میں اس سے رکھتا ہوں (pbg)وغیرہ پہ ، وہ نہیں رکھتا، یہ بھی تھا کہ بینک سے اسے نکالنے کےلیے میں نے اس کے خلاف جھوٹی رپوٹ بھی اس کے آفس بھیجی تھی ۔
اس سب ندامت، گناہ کے احساس نے مجھے پریشان کررکھاہے، اللہ سے کئی بار معافی مانگ چکا ہوں ،دوست کے لیے دعائیں بھی بہت کرتاہوں ،جن مسلمان قبروں میں تعویذ ڈالے تھے ان کے لیے بھی بہت دعائیں کرتا ہوں ،ان کی قبروں پر جا کر معافی بھی مانگی اور قرآن پڑھ کر بھی انہیں بخشے ہیں، لیکن سکون نہیں ملتا۔
اب مجھے بتائیں کہ یہ جو میں نے قبروں میں تعویذ ڈالنے کا گناہ کیاہے، اس کا کفارہ کیاہے ؟جو زیادتیاں کی ہیں دوست کے ساتھ ، اس کا کفارہ کیا ہے ؟معافی کیسے ملی گی؟ ان قبروں والوں کا کیا ہوا ہوگا میری وجہ سے وہ تکلیف میں ہونگے؟ اتنی مصیبت ہے کہ میں نے عیسائی قبر والے کی بھی دعا کر ڈالی ،مجھے بتائیں میں کیا کفارہ ادا کروں ؟کیسے توبہ اور معافی مانگوں؟
براہِ مہربانی جلد ازجلد جواب دیجیے گا ، میں سخت مشکل میں ہوں ،یہاں میں یہ واقعہ بھی بتاتا چلوں کہ کسی اشتہار پر ،فون پر ایک عیسائی /ہندو عامل سے اسی سلسلے میں مدد لی، اس نے فون پر ہی ایک بار پیسے لیے مجھے یاد نہیں نہ علم میں ہے کہ میں نے اسے کالے علم کا کہا یا اس نےکالا علم کیا،لیکن ایک بار پیسے مانگنے کے بعد وہ دوبارہ مانگنے لگا تو میں نے رابطہ منقطع کردیا۔
اِن سب واقعات کے دوران میں شادی شدہ نہیں تھا ، خصوصاً قبروں والے واقعہ کے دوران ،بعد میں شاید جو کوئی جلانے وغیرہ کے تعویذ لیے ہوں تو مجھے واقعی یاد نہیں کہ شادی ہوئی تھی کہ نہیں ، لیکن منگنی ضرور ہوچکی تھی ،
یہ تمام واقعات 3/ 4سال کے عرصے کے دوران پیش آتے رہے ،لیکن پچھلے 5 سالوں سے میں نے کچھ بھی نہیں کیا ، اللہ سے بار بار معافی مانگ رہا ہوں ،لیکن سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ کیا کروں کہ اس گناہ سے خلاصی مِل جائے ۔
مجھے کفارہ، معافی، توبہ سب کا تفصیلاً بتائیں ،جوابی لفافہ ہمراہ ہے ،میرا مسئلہ کہیں بھی شائع مت کیجیے گا،راز داری کی امید رکھتاہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنے نفس اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر جن قبیح اعمال کا ارتکاب کیاہے جس میں بغض ،حسد ، دروغ گوئی اور قبروں کی بےحرمتی اور جادو شامل ہے ،ان کی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہواہے،لہذا سائل کو چاہیےکہ سب سے پہلے اپنے دوست کو پوری بات بتا کر معافی طلب کرے اور پھر سچے دل سے توبہ و استغفار کرکے ساتھ ساتھ پانچ وقت کی نمازوں اور بقیہ اعمال کی پابندی کرے ، اور اپنی وسعت کے مطابق صدقہ و خیرات کرنے کی بھی کوشش کرے ،اور آئندہ ایسے مذموم اعمال سے مکمل اجتناب کرے، اللہ تعالی سے امید ہے کہ بخشش ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی التنزیل العزیز : ﴿وَ الَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَ مَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَ لَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَ هُمْ يَعْلَمُونَ﴾ (المائدة:135)۔
و أيضا قال : ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا﴾(النساء:48)۔
و في سنن إبن ماجه : عن أبي عبيدة بن عبد الله عن أبيه قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - التائب من الذنب كمن لا ذنب له اھ(۱۲/301)۔
و فی الترغیب و الترھیب : تحت قول اللہ تعالی﴿وَ الَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً﴾حملوھا عقاب المعاصی و عرضوھا للنار باتباع الشھوات و مخالفة اوامر اللہ بان اذنبوا ای ذنب کان و قیل الفاحشة الکبیرة و ظلم النفس الصغیرۃ و لعل الفاحشة مایتعدی اذاہ الی الغیر و ظلم النفس ما کان یغضب اللہ و لو قل و لایتعدی ضررہ الی الغیر و الاستغفار الندم و التوبة اھ(1/472)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60273کی تصدیق کریں
1     1783
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات