کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طالبان اور اسامہ بن لادن کو جو شخص بُرا بلا کہے اور گالی دے ، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور وہ شخص کہتا ہے کہ طالبان اب ختم ہوگئے ، دوبارہ یہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے ، جبکہ میں کہتا ہوں کہ طالبان حق پر ہیں اور حق کو اللہ تعالیٰ ضرور غالب کرتا ہے ، آیا میری بات صحیح ہے یا اس شحص کی ؟براہِ کرم تسلی بخش جواب سے نوازیں۔
طالبان ، اسامہ بن لادن یا کسی بھی مسلمان کو گالی دینا اس کی تحقیر کرنا فسق اور گناہ ہے ، نیز وہاں کےواقعی حالات جانے اورجنگ کی حکمت عملی سمجھے بغیر محض فساق و فجار اور غیر مسلم میڈیا کی افواہیں سن کر طالبان جیسی اسلامی حکومت کا خاتمہ سمجھ لینا قرآن و سنت سے بے خبری اور اپنی نا سمجھی و بے وقوفی کی بڑی دلیل ہے ، جو کسی بھی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
لہٰذا مسلمانوں کو ان حالات میں اپنے مظلوم اور نہتے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے،انکی اور اسلام کی بقاء کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے اور یہی اس وقت مسلمانوں کا فریضہ ہے، بلا تحقیق اور بلاوجہ باہم الجھنے، بحث و مباحثہ کرنے سے احتراز ضروری ہے ۔
في تفسير الخازن : فعلى هذا يكون معنى الآية : إن جاءكم فاسق بنبأ , أي بخبر , فتبينوا. و قرىء : فتثبتوا , أي : فتوقفوا و اطلبوا بيان الأمر و انكشاف الحقيقة و لا تعتمدوا على قول الفاسق ) أن تصيبوا ( أي كيلا تصيبوا بالقتل و السبي ) قوماً بجهالة ( أي جاهلين حاله و حقيقة أمرهم ) فتصبحوا على ما فعلتم ( أي من إصابتكم بالخطأ ) نادمين و اعلموا أن فيكم رسول الله ( أي : قاتقوا الله أن تقولوا باطلاً أو تكذبوه فإن الله اھ (6/ 222)۔
و فی صحيح مسلم عن عبد الله بن مسعود ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سباب المسلم فسوق و قتاله كفر» اھ(1/ 81)۔
و فی شرح سنن ابن ماجه للسيوطي و غيره :سباب الْمُسلم فسوق الخ قَالَ النَّوَوِيّ السب فِي اللُّغَة الشتم و التكلم فِي عرض الْإِنْسَان بِمَا يعِيبهُ اھ(ص: 282)۔