حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ السلام ایک مرتبہ ایک قبر کے پاس سے گزرے تو لبیک کہہ کر دوڑے اور قبر کے قریب پہنچ کر سجدہ کیا اور رونے لگے، کچھ دیر بعد آپ نے سجدے سے سر اٹھایا اور خوش ہو کر قبر سے لپٹ گئے، پھر مسجد شریف کی طرف واپس آئے، میں نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس پر عذاب ہورہا تھا، اس نے مجھ سے فریاد کی کہ میرے ہر طرف آگ ہے ، میں نے اللہ سے اس پر ہو نے کا سبب پوچھا ،ارشاد ہوا یہ دنیا میں فحش بکتا تھا ، پھر میں نے اس کے لۓ اللہ سے دعا کی ، اللہ نے اسے بخش دیا ،صحابہ نے کہا اللہ سے دعا کیجیۓ کہ وہ آپ کی امت پر عذابِ قبر آسان کر دے ، فوراً حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حاضر ہو کر کہا کہ آپ کی امت میں جو کوئی شب میں دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ ’’اذا زلزلت الارض‘‘پڑھے گا، اللہ اس کو عذابِ قبر سے محفوظ رکھے گا ،پوچھنا یہ ہے کہ یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو کس کتاب میں موجود ہے؟ اس کا حوالہ درکار ہے۔
بہ ظاہر یہ حدیث من گھڑت معلوم ہوتی ہے، تاہم دیگر اہلِ فتویٰ سے بھی رجوع کر لیا جائے تو بہتر ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0