کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رفعِ یدین اور ترکِ رفعِ یدین کے بارے میں دونوں احادیث موجود ہیں اور اسی طرح احناف ترکِ رفعِ یدین کو ترجیح دیتے ہیں اور غیر مقلّدین حضرات رفعِ یدین کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ لوگ غلطی پر ہیں، اس لۓ کہ رفعِ یدین کے بارے میں احادیث زیادہ ہیں اور یہاں اکثر کا اعتبار ہے ، ہمارے فیکٹری میں ایک مزدور ہے جو اسی طرح کے باتیں کرتے ہیں اور نمازِظہر کو وہ ۳:۱۵ یا ۴:۵۰ بجے پڑھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن اور احادیث میں کیا حکم ہے؟
مذکورہ مزدور کا یہ طرزِ عمل اپنی حیثیت سے بڑھ کر ہے، اسے چاہیۓ کہ خالص علمی مسائل میں بغیر علم دخل اندازی سے احتراز کرے، جبکہ رفعِ یدین نہ کرنا روایات کی رُو سے زیادہ قوِی اور اوفق بالقرآن ہے، تاہم وہ جو آج کل ساڑھے تین اور ساڑھے چار بجے نمازِ ظہر ادا کرتاہے یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ اتنی تاخیر کسی قسم کے فتنہ کا باعث نہ ہو۔