گناہ و ناجائز

عورت کے لۓ بھنویں بنانے اور بال کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
59325
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورت کے لۓ بھنویں بنانے اور بال کاٹنے کا حکم

۱۔ شوہر کی نفرت سے بچنے کے لۓ بھنویں بنانا جائز ہے یا نہیں؟اور شوہر کے کہنے پر بھنویں بنانا جائز ہے یا نہیں؟
۲۔ شوہر کے کہنے پر بال کٹوانا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ شادی شدہ عورت شوہر کی اجازت سے یا اسے خوش کرنے کے لۓ اپنی موٹی یا بڑی بھنوؤں کو باریک کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے، مگر اس سلسلہ میں اتنا مبالغہ نہ کرے کہ ہیجڑوں کے ساتھ مشابہت ہونے لگے، جبکہ بلاوجہ بھنویں بنانے کی عادت سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ اگر اس سے سر کے بال کٹوانا مراد ہو تو عورت کے لۓ شوہر کی اجازت یا اس کے حکم سے بھی اپنے سر کے بال چھوٹے یا فیشن کے طور پر کاٹنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشية ابن عابدين: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اھ(6/ 373)۔
و فی مشكاة المصابيح: وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة (2/ 1092)۔
وفی مرقاة المفاتيح: وما أمرتكم بمعصية الله أنا وغيري فلا طاعة لأحد في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف» (6/ 2408)
وفی حاشية ابن عابدين: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ. (6/ 407)۔
وفیها أیضاً: (قوله والمعنى المؤثر) أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال اھ(6/ 407)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59325کی تصدیق کریں
4     797
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات