کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک فیکٹری میں مؤذن نہیں ہے ، اور امام کے آنے سے پہلے یا اس کے موجودگی میں داڑھی مونڈھا اذان اور اقامت کہلانے آئے تو وہ اذان اور اقامت اور نماز صحیح ہے یا نہیں؟ دونوں صورتوں میں یعنی صحت اور عدمِ صحت پر صرف قرآن وحدیث سے مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص فاسق ہے اور فاسق کا اذان واقامت کہنا مکروہ ہے، جس سے احتراز کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاہم اس سے نماز میں کوئی خرابی اور فساد لازم نہیں آتا، نماز بہرحال سب کی جائز اور درست ہوجائے گی۔
کما فی الفتح القدیر: بقولہ علیہ السلام ولیؤذن لکم خیارکم فعلم أن المراد أن المستحب کونہ عالما عاملا لان العالم الفاسق لیس من الخیار لانہ أشد عذابا من الجاہل الفاسق علٰی أحق القولین کما تشہد الاحادیث الصحیحۃ وصرحوا بکراہۃ أذان الفاسق من غیر تقیید بکونہ عالما أو غیرہ۔(ج۲۱۶۱)۔