کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(۱) بعض لوگ پندرہ شعبان یعنی شبِ برأت کے متعلق کہتے ہیں کہ اس رات کی کوئی فضیلت نہیں اور اس کے متعلق جتنی روایات ہیں بدعت اور موجبِ عذاب ہے، جبکہ مبتدعین اس رات کو جشن کے طور پر مناتے ہیں اور اس رات میں طرح طرح کے خرافات، مثلاً چراغاں اور حلوہ وغیرہ کی رسومات کرتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے متعلق ہمارے جمہور اکابرِ دیوبند کا کیا معمول ہے ؟ خصوصاً حکیم الامت حضرت تھانویؒ جو بدعات کے بھی سخت مخالف تھے۔
(۲) اس رات کی فضیلت کے بارے میں کئی روایت مثلاً مشکوٰۃ، مصنف ابن عبد الرزاق، شمائلِ کبریٰ اور الترغیب میں موجود ہیں، جس کے بارے میں بعض اکابر نے تصریح کی ہے کہ یہ روایات سنداً کمزور ہیں، کیا کمزور اور ضعیف روایات فضائل کے مسئلے میں قبول ہیں یا نہیں؟ جبکہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی شفیعؒ نے اپنے رسالہ (فضائل و احکام شب برأت) صفحہ ۸؍ پر لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام سے اس رات میں جاگنا اور اعمالِ مسنونہ پر عمل کرنا قابلِ اعتبار روایات سے ثابت ہے ، جیسا کہ المواہب اللدنیہ کے آخر میں لکھا ہے اور ابن حاج مکی مدخل صفحہ ۲۴۸؍ میں تحریر فرماتے ہیں کہ سلفِ صالحین اس رات کی تعظیم کرتے اور اس کیلئے پہلے سے تیاریاں کرتے تھے۔ (رسالہ شب برأت صفحہ ۸)۔
اس رات کی فضیلت سے متعلق کئی روایات وارد ہوئی ہیں جو اگرچہ ضعیف بھی ہوں ،مگر کثرتِ طرق کی وجہ سے حسنِ لغیرہٖ کے درجہ کو پہنچی ہوئی ہیں، جبکہ ضعیف روایات بھی فضائل کے معاملہ میں قابلِ استدلال ہوتی ہیں، مگر اس رات میں چراغاں کرنا، حلوے وغیرہ پکانا ، دیگر خرافات کرنا اور مساجد میں جمع ہوکر اجتماعی عبادات کا اہتمام کرنا اور اس کو لازم سمجھنا اور جو نہ کرے اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھنا وغیرہ ایسے اُمور ہیں جن کا شریعتِ مطہرہ سے کوئی ثبوت نہیں نیز پندرہ شعبان کے روزہ کو اس رات کی مناسبت سے لازم سمجھنے کا بھی یہی حکم ہے، البتہ نبی اکرم ﷺ سے ایامِ بیض کے روزے رکھنا جن میں پندرہ تاریخ بھی آتی ہے ، اسی طرح شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا ثابت ہے ، اگر کوئی اس غرض سے روزہ رکھ لے تو شرعاً اس میں کوئی حرج بھی نہیں بلکہ جائز اور درست ہے، علماءِ دیوبند کی بھی یہی رائے ہے، جبکہ اس رات سے متعلق حضرت تھانویؒ کا کوئی خاص معمول ہمیں معلوم نہیں ہوسکا۔
و فی الدر المختار: و احیاء لیلۃ العیدین والنصف من شعبان و العشر الاخیر من رمضان والاول من ذی الحجہ الخ(ج۲، ص۲۵)
وفی رد المحتار: تتمة] أشار بقوله فرادى إلى ما ذكره بعد في متنه من قوله ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد، وتمامه في شرحه، وصرح بكراهة ذلك في الحاوي القدسي. قال: وما روي من الصلوات في هذه الأوقات يصلى فرادى غير التراويح. (ج۲، ص۲۶)۔
وفی الدر المختار: شرط العمل بالحدیث الضعیف عدم شدۃ ضعفہ، وان یدخل تحت اصل عام، وان لا یعتقد سنیۃ ذٰلک الحدیث۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0