زید نے مسجد میں غیر فطری فعل کیا ہے اور ویڈیو دیکھی ہے ۔ اور گانے سنے ہیں۔ دو ماہ کے بعد اُس نے اپنے اس گناہ سے توبہ کی۔ تین مہینے گزرنے کے بعد اُس نے پہلے والا گناہ دوبارہ شروع کیا ۔ اُس نے پھر توبہ کی۔ کیا اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائیں گے؟ اسی صور ت حال میں اُس نے چھ سال گزار ہے میں ۔ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں مسمی زید متعدد بار توبہ و استغفار کے بعد پھر اُسی شنیع اور ملعون فعل کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہوا ہے ،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر خوف خدا پیدا کرے ۔ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کر ےجن میں خوف خدا پایا جاتا ہے۔ اپنے آپ کو اعمال مسجد کا پابند بنانے کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت کے ساتھ خوب گڑ گڑا کر بصدق دل تو بہ و استغفار کرے اور آئندہ رہ کے لیے ایسے امور سے مکمل اجتناب بھی کرے۔ تو امید ہے اللہ تبارک و تعالی اس کا مؤاخذہ نہ فرمائیں گے۔