میرا سوال قرآنِ کریم کو غیرمسلم کا ہاتھوں میں لینے سے متعلق ہے کہ غیرمسلم شخص جو صرف نام کا مسلمان ہے اور بغیر وضو کے ہے اور ایک شخص کو کیا کرنا چاہیے جب وہ لوگوں کو اس طرح قرآن کو چھونے کو برا دیکھے، کیا اس کو ان کو یہ نصیحت کرنی چاہیے کہ وہ وضو کریں قرآن کو چھونے سے پہلے، کیونکہ وہ اللہ کا کلام ہے تاکہ ان کو اس پاکیزہ حالت میں قرآن کو چھونے کی اجازت دے دے، اور یا ان کو نہ بتائیں۔
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب ہے اور شریعتِ مطہرہ نے اسے چھونے اور اس کی تلاوت کےلیے آداب بھی متعین کیے ہیں۔ جن میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی تلاوت یا اسے چھونے سے قبل طہارت ( یعنی اگر غسل کی حاجت ہو تو غسل ورنہ وضو) کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ لقولہ تعالیٰ: ’’لا یمسہ إلا المطہرون‘‘ الآیۃ
لہٰذا مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ اس مقّدس کتاب کو بے وضو چھونے سے احتراز کریں اور کسی کافر کے چھونے کے بارےمیں یہ تفصیل ہے کہ بغیرطہارت کے اس کا چھونا بالکل جائز ہی نہیں، البتہ اگر وہ غسل کرلے اور امید ہو کہ اسے چھو کر یا پڑھ کر سیدھا ( یعنی ہدایت والا) راستہ اختیار کرے گا تو اس صورت میں امام محمدؒ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اسے چھونے وغیرہ کی اجازت دے سکتے ہیں۔
البتہ دیکھنے والے کو چاہیے اگر اسے یقین ہو کہ یہ چھونے والابے وضو ہے یا کافر ہے اور اس نے غسل نہیں کیا تو انہیں چھونے سے روکے اور منع کرے اور اس کے فضائل بیان کر کے انہیں غسل پر آمادہ کرنا چاہیے۔
ففی الدر المختار: (و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز۔(1/ 173)-
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: ظاهر كلامهم لا) قال في النهر: وظاهر استدلالهم بقوله تعالى ﴿لا يمسه إلا المطهرون﴾ (الواقعة: 79) بناء على أن الجملة صفة للقرآن يقتضي اختصاص المنع به اهـ لكن قدمنا آنفا عن المبتغى أنه لا يجوز اھ (1/ 173)-
وفی الدر المختار: ويمنع النصراني من مسه، وجوزه محمد إذا اغتسل ولا بأس بتعليمه القرآن والفقه عسى يهتدي اھ
وفی حاشية ابن عابدين: وفي الخانية الحربي أو الذمي. (قوله: من مسه) أي المصحف بلا قيده السابق. (قوله: وجوزه محمد إذا اغتسل) جزم به في الخانية بلا حكاية خلاف. قال في البحر: وعندهما يمنع مطلقا. (1/ 177)-
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0