السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! ہم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہونگے،اچھا گزارش یہ ہے کہ ایک بندہ جس کی دو شادیاں ہیں،اور اس بندے کی جو پہلی بیوی ہے، اس میں سے ایک لڑکا اپنی چھوٹی یعنی کے سوتیلی ماں سے اس نے ناجائز تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔
اور وہ لڑکے جس نے اپنی سوتیلی ماں سے ناجائز تعلقات رکھے ہیں، اس کی بیوی کو شک ہونے کی صورت میں اس نے اپنے شوہر کے موبائل میں کال ریکارڈنگ لگائی ، جس میں وہ رومینٹک باتیں کررہے ہیں، جو میں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا اور اس عورت کی اولاد نے بھی کئی بار اپنے سوتیلے بھائی اور ماں کو حرکتیں کرتے دیکھا ہےاور اس بات کا اقرار وہ عورت اور اسکا سوتیلا بیٹا اپنے سسر کے سامنے کرچکے ہیں ، اب ہمارے آپ حضرات سے تین سوال ہیں۔
1 کیا اس لڑکے کے باپ کا نکاح اپنی چھوٹی بیوی سے موجود ہے ؟
2 کیا اس لڑکے کا نکاح اپنی خود کی بیوی سے موجود ہے یا نہیں ؟
3 اور جو اس لڑکے کی بیوی نے کال ریکارڈنگ کی تھی وہ اپنے ماں باپ اور اس لڑکے کے باپ کے سامنے رکھ سکتی ہے یا کوئی گناہ ہوگا کسی کے عیب نکالنا ؟
جزاکم اللہ مفتی صاحب ہم آپ کے جواب کا انتظار کریں گے.شکریہ !
(1،2)سوال میں ذکرکردہ تفصیل اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طورپر کہ مذکورہ عورت اور اس کے سوتیلے بیٹے کے درمیان محض فون کی حدتک تعلق نہ ہو بلکہ واقعۃ وہ دونوں کسی ناجائز تعلق جیسے بلاحائل شہوت کے ساتھ ایک دوسرے کے جسم کو چھونا ، بوس وکنار وغیرہ کرنا یا باقاعدہ زناکا مرتکب ہونا وغیرہ جیسے امور کا ارتکاب کرچکے ہوں ، تو اس عمل کی وجہ سے وہ عورت اپنے شوہر کے اوپر ہمیشہ کے لیے حرام ہوچکی ہے، اس لیے اب ان دونوں کا ساتھ رہنا شرعاجائز نہیں، بلکہ شوہر کو الفاظ متارکہ جیسے چھوڑدیا وغیرہ کہہ کر فورا ایک دوسرے سے علیحدہ گی اختیار کرنا لازم ہے، تاہم اس عمل کی وجہ سے سوتیلے بیٹے کا اپنی بیوی سے نکاح متاثرنہیں ہوا۔
(3) اگر سوتیلے بیٹے کی بیوی مناسب طریقہ سے اپنے شوہر کو سمجھانے سے اگر وہ اس عمل سے باز آسکتاہو، تو بہتر ،ورنہ وہ یہ ریکارڈنگ اپنے والدین یا سسرال والوں کے سامنے بھی رکھ سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ خود اس کا اقدام نہ کرے ، کیونکہ اس سے خود اس کے گھربرباد ہونے کا ا ندیشہ ہے۔