گناہ و ناجائز

سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے ملازمین کی اجازت کے بغیر تنخواہ سے کٹوتی کرنا

فتوی نمبر :
58073
| تاریخ :
2022-08-31
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے ملازمین کی اجازت کے بغیر تنخواہ سے کٹوتی کرنا

السلام علیکم محترم امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
جناب،میں ایک نجی ادارہ میں ۔نوکری کرتا ہوں۔سیلاب کی زد میں کچھ عزیز و اقارب بھی آئے ،اپنی حیثیت کے مطابق امداد کی اور آگے بھی کرنے کا ارادہ ہے۔
مگر، میرے ادارے کے مالکان نے مجھ سے پوچھے بغیر،میری مرضی اور منشاء کے بنا تنخواہ میں سے کٹوتی کر لی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ سیلاب زدگان کو دینی ہے۔جبکہ میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں زبردستی صدقہ اور خیرات لینا جائز ہے؟ کیا کسی ملازم سے زبردستی خیرات اور چندہ کے نام پر کٹوتی جائز ہے؟ کیا زبردستی کا لیا گیا صدقہ اور خیرات جائز ہے؟ایسا کرنا ثواب ہے یا گناہ؟رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ صدقہ وخیرات بلاشبہ باعث اجروثواب عمل ہے، اور خاص طورپر جب اجتماعی پر کئی افراد کسی مصیبت اور پریشانی میں مبتلاہوں، تو ان کی مدد کرنا انسانی ہمدردی کی بہترین مثال اورباعث اجروثواب کام ہے، لیکن ایسے تمام مواقع میں خرچ کی جانے والی رقم، خرچ کرنے والے کی ذاتی ملکیت ہوناضروری ہے، کسی ملازم کی اجازت ودلی رضامندی کے بغیر اس کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے رقم صدقہ کرنا قطعاغلط اور غصب کے زمرے میں آتاہے، جس پر ثواب کی امیدرکھنے کے بجائے الٹا وبال کا سبب اور ذریعہ ہے، اس لیے مذکورادارے کے منتظمین پرلازم ہے، کہ انہوں جتنے ملازمین کی اجازت کے بغیر ان کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے یہ رقم سیلاب متاثرین میں صدقہ کی ہے، وہ تمام رقم اپنی ذاتی اکاونٹ سے ان ملازمین کو واپس کردے ورنہ ان سے معافی تلافی کیے بغیر مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

مشكاة المصابيح: (2 / 889)
عن أپی حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظملوا، ألا! لا یحل مال امرءٍ إلا بطیب نفس منہ․ رواہ البیہقي، في شعب الإیمان۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58073کی تصدیق کریں
0     734
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات