محترم جناب مفتی صاحب! کمپیوٹر سے جاری اذان کی آواز سن کر نمازِ ظہر، عصر ادا کرنا کافی ہے یا کسی بنده کی طرف سے اذان دینا ضروری ہے؟
واضح ہو کہ صحت نماز کا تعلق دخول وقت کے ساتھ ہے یعنی نماز کا وقت ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص بغیر اذان کہے بھی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز درست ادا ہو جائے گی، تاہم اذان کہنا سنت عمل ہونے کے ساتھ ساتھ شعائر اسلام سے بھی ہے، اور اس کی برکات اور اجر و ثواب اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں، جب اس کے آداب و شرائط کی رعایت رکھ کر کوئی فاعل مختار اسے انجام دے، محض کمپیوٹر کے ذریعہ اذان سننے سے اس کی سنیت وغیرہ کے فوائد پورے نہیں ہو سکتے ۔
کما في الدر المختار: أن منها الأذان في الوقت؛ لأنه من خصائص ديننا وشعار شرعنا اھ (1/ 353)
وفي بدائع الصنائع: وأما أذان الصبي الذي لا يعقل فلا يجزئ ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور. اھ (1/ 150)
وفي الفتاوى الهندية: وأهلية الأذان تعتمد بمعرفة القبلة والعلم بمواقيت الصلاة. كذا في فتاوى قاضي خان وينبغي أن يكون المؤذن رجلا عاقلا صالحا تقيا عالما بالسنة. كذا في النهاية وينبغي أن يكون مهيبا ويتفقد أحوال الناس ويزجر المتخلفين عن الجماعات. كذا في القنية اھ (1/ 53)