کیایہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے فرض ہے کہ قرآن کو چھونے اور پڑھنے سے پہلے وضو کیا جائے؟ یا یہ ایک مشق ہے قرآن مجید کے احترام کیلئے؟ اگر کوئی شخص قرآن پاک پڑھنا اور سیکھنا چاہتا ہے کیا وہ اس کو بغیر وضوء چھو سکتا ہے لیکن ضروری طہارت کے ساتھ (یعنی حالت جناب میں نہیں) ایک عام آدمی مشکل سے ہر وقت وضو میں رہ سکتا ہے اور یہ بات اُس کو قرآن مجید پڑھنے اور سیکھنے سے روکتی ہے، برائے مہربانی تفصیل سے وضاحت کریں اور میری پریشانی کو دور کریں۔
محض قرآنِ کریم کی تلاوت کیلئے باوضو ہونا شرعاً لازم نہیں البتہ اگر قرآنِ کریم کو ہاتھ لگانے اور چھونے کی ضرورت پیش آجائے، تو ایسی صورت میں طہارت واجب ہے اور بلا طہارت ووضو قرآنِ کریم چھونا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے،جبکہ تھوڑی سی محنت و کوشش سے اکثر اوقات باوضو رہنا کوئی مشکل نہیں بلکہ ممکن ہے، صرف کھانے پینے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی القرآن المجید: ﴿لا یمسه الا المطھرون﴾ (الآیة)
وفی رد المحتار: قیل بانھا واجبة لمس المصحف لا فرض لا ختلاف فی تفسیر الاٰیة فلم تکن قطعیة الدلالة حتی تثبت الفرضیة، لان قولہ تعالٰی: ﴿لا یمسه الا المطھرون﴾ قیل انہ صفة لکتاب مکنون وھو اللوح وقیل صفة لقرآن کریم وھو المصحف فعلی الاوّل المراد من المطھرین الملائکة المقربون لأنھم مطھرون عن ادناس الذنوب، ای لا یطلع علیہ سواھم علی الثانی المراد منھم الناس المطھرون من الاحداث وعلیہ اکثر المفسرین، ویویدہ ان فیہ حمل المس علی الحققیة والاصل فی الکلام الحقیقة واحتمال غیرھا بلا دلیل لا یقدح فی صحة الاستدلال اذ قلّ یوجد دلیل بلا احتمال فلا ینافی ذٰلک القطعیة فلذا واللہ اعلم اشار الشارح الی اختیار القول بالفرضیة وقواہ المحشی الحلبی وھو اختیار الشرنبلالی، لکن سیأتی ان الفرض ما قطع بلزومہ حتی یکفر جاحدہ وھذا لیس کذالک لما فی الخلاصة انہ لو انکر الوضوء لغیر الصلاة لا یکفر عندنا الّا ان یجاب بانہ فرض عملی وھو اقوی نوعی الواجب واضعف نوعی الفرض فلا یکفر جاحدہ وبہ یحصل التوفیق بین القولین اھ (ج۱ ص۸۹) واللہ اعلم
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0