گناہ و ناجائز

سکھ مذہب سے مسلمان ہونے والی لڑکی کے لئے سر کے بال منڈوانا لازم نہیں

فتوی نمبر :
5444
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سکھ مذہب سے مسلمان ہونے والی لڑکی کے لئے سر کے بال منڈوانا لازم نہیں

السلام علیکم میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں میرا تعلق پہلے سکھ مذہب سے تھا،سکھ مذہب میں بال منڈوانا حرام ہے، چاہے وہ عورت ہو یا مرد اسلام میں بچپن میں بچے کے جو بال ہوتے ہیں ان کو منڈوانا ضروری ہے، جبکہ میرے بال بچپن سے لے کر اب تک نہیں مونڈے گئے، میری ایک سہیلی کو جب پتہ چلا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میرا ایک مرتبہ سر کے بالوں کو منڈوانا ضروری ہے اور میرے شوہر کہتے ہیں کہ مرد کے لیے ضروری ہے عورت کے لیے نہیں، جبکہ میں بھی اس بات کو ٹھیک نہیں سمجھتی اور چونکہ میں شادی شدہ بھی ہوں تو میرے لئے تو اور بھی مشکل ہے، برائے مہربانی میرے اس مسئلے کا کوئی مناسب حل بتائیے ۔ آمنہ عامر کراچی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بچہ کی ولادت کے بعد اس کے بال منڈوانا اسلام میں بھی فرض یا واجب کے درجہ میں لازم یا ضروری نہیں، بلکہ بہتر و مستحسن ہے،جس کے نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ ہی اس کے بعد بڑی عمر میں ان کو کاٹنا ضروری ہے، بلکہ عورت کے لیے شریعت اسلامیہ میں سر کے بال منڈوانا جائز ہی نہیں، لہٰذا سائلہ کی مذکورہ سہیلی کا قول شرعاً درست نہیں، البتہ بغل کے اور زیر ناف بالوں کا چالیس دنوں میں ایک مرتبہ صاف کرنا ہر حال میں ضروری ہے اور ہر ہفتہ صاف کرنا بہتر اور مستحب ہے، جس کا اہتمام چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: عن علي وعائشة رضي الله عنهما قالا: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تحلق المرأة رأسها. رواه الترمذي اھ (2/ 813)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولا حلق على المرأة لما روي عن ابن عباس - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «ليس على النساء حلق، وإنما عليهن تقصير» ، وروت عائشة - رضي الله عنها - أن «النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى المرأة أن تحلق رأسها» ، ولأن الحلق في النساء مثلة اھ (2/ 141)
و في أحكام جراحة التجميل في الفقه الإسلامي: أجمع العلماء على أنه لا حلق على المرأة في الحج ، (إلی قوله) عن أبي موسى أنه قال : " أنا بريء مما بريء منه رسول الله ( ، فإن رسول الله ( بريء من الصالقة والحالقة والشاقة . فالحالقة : هي التي تحلق شعرها عند المصيبة ، فقد كان النساء يحلقن رؤوسهن عند حلول المصائب تعبيرا عن الحزن ، فنهى ( عن ذلك اھ (ص: 9) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہد عبد الحمید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5444کی تصدیق کریں
0     247
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات