گناہ و ناجائز

اشتہارات میں خواتین کے تصاویر لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
51123
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اشتہارات میں خواتین کے تصاویر لگانے کا حکم

میں مالک ہوں اور آن لائن کاروبار چلاتا ہوں عورتوں کے کپڑوں کا پاکستان میں میری کوئی دوکان نہیں ہیں سارے آرڈر آن لائن آتے ہیں پاکستان سے اور پاکستان کے باہر سےمسئلہ مجھے یہ آرہا ہے کہ جب میں شوٹ کرواتا ہوں پتلے پر یا پھر کسی ماڈل پر اور پھر اس ماڈل کی شکل ہاتھ بال پیر ایڈیٹنگ میں چھپا دیتے ہیں تو ہماری آن لائن سیل کم ہو جاتی ہیں بہت زیادہ. خاتون کسٹمر کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ جب تک وہ کپڑے دیکھ نا لیں کسی اور خاتون ماڈل پر تب تک ان کو اندازہ صحیح سے نہیں ہوتا. باقی تقریبا سارے ہی برینڈز ماڈل اور کپڑے ساتھ ہی دکھاتے ہیں اور اگر ہم صرف کپڑے دکھائے تو ہمارا کافی نقصان ہو جاتا ہے ہے اس وجہ سےدوسری چیز یہ ہے کہ میں فیس بک اور انسٹاگرام پے ایڈورٹزمنٹ کرنی ہوتی ہے ماڈل اور کپڑوں کی ساتھ میں تاکہ ہماری سیل ہو. اور دوسری چیز یہ ہے کہ ہمیں مشہور ایکٹرز سنگرز اور خواتین جن کے بہت فالوورز ہیں سوشل میڈیا پر ان کو ہمیں کپڑے بھیجنے پڑتے ہیں تاکہ وہ ہمارے کپڑے پہنے اور اپنے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کے ذریعے فوٹو یا ویڈیو لگائیں اپنی ،ہمارا برانڈ مشہور کرنے کے لئےہر دوسرے یا تیسرے مہینے میرا شوٹ ہوتا ہے پروڈکٹ کا تو مجھے دو تین خاتون ماڈل ہائیر کرنی پڑتی ہیں اور ویڈیو گرافر فوٹوگرافر یہ مرد ہوتے ہیں اب میرا سوال یہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ عورتوں کے کپڑوں کا کام کرنا جائز ہے اور حلال ہے لیکن اس کے جو مسئلے ہیں کہ ماڈل ہائر کرنا مشہورعورتوں کو کپڑے بھیجنا یہ ساری چیزیں جو ہے یہ ساری حرام ہے تو کیا ایسے رزق میں برکت ہے یا اسے رزق کو چھوڑ دینا چاہیے ہیں کیونکہ کہ اس کے بغیر نقصان زیادہ ہے اور کاروبار بڑھانا اور برینڈ بڑھانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ تقریبا باقی سارے برینڈز ماڈل اور کپڑے ساتھ دکھاتے ہیں
کیا یہ کام کرنے سے قیامت کے دن اس کی سزا ملے گی کہ کام اور رزق تو حلال ہے لیکن طریقہ کار حرام ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ کپڑے کا کاروبار کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، لیکن اپنے کاروبارکو بڑھانے کے لیے سوال میں مذکورطریقہ کار( اپنے برانڈ کی تشہیرکے لیے خواتین کی تصاویر) کا سہارہ لینا شرعاجائز نہیں، اور نہ ہی اس طریقہ کارکے مطابق حاصل کردہ آمدنی میں خیروبرکت کی کوئی امید کی جاسکتی ہے، اس لیے سائل کو چاہیے کہ اس غیرشرعی طریقہ کارکو چھوڑ کرشرعی اصولوں کے مطابق کام کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ وقتی طورپر آمدنی کم ہو، لیکن ان شاء اللہ حلال اور جائز طریقہ سے حاصل کردہ آمدنی میں برکت ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51123کی تصدیق کریں
2     1308
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات