السلام علیکم! میرا کزن جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اس لڑکی کو اس کی ماں نے دودھ پلایا ہے یہ اس کا گمان ہے، اور گمان یہ بھی ہے نہیں پلا یا کیونکہ شادی کے دن رات کو تھکاوٹ تھی ،اور لڑکے کی ماں کو بخار تھا وہ جب سونے آئی ،تو بستر پر آ کے اس نے بچے کو دودھ پلایا اور صبح جب اٹھی تو اس کے ساتھ دو بچے تھے ،ایک اپنا بیٹا دوسری وہ لڑکی جس سے میرا کزن رشتہ کرنا چاہتا ہے،تو اس حالت میں عورت کو گمان ہے کہ پتا نہیں اس نے اپنے بچے کو دودھ پلایا یا اس دوسری بچی کو ،تو کیا اس حالت میں لڑکی لڑکے کا نکاح ہو سکتا ہے؟ کیونکہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور دودھ پلانے والی بات شک میں ہے کہ آیا پلایا ہے یانہیں پلایا، غالب گمان کوئی بھی نہیں ہے۔ شکریہ! و السلام!
واضح ہو کہ شک کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ صورت مسئولہ میں جب دودھ پلانے والی عورت کو شک ہے تو شک کی بناء پر حرمت رضاعت ثابت نہ ہو گی، لہذا سائل کے کزن اور مذکور لڑکی کا آپس میں نکاح شرعاً جائز و درست ہے۔
کما في الفتاویٰ الهندية: قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية اھ (1/ 342)
وفيھا ايضاً: المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت اھ (1/ 344)