کیا موبائل پر اذان چلا کر سپیکر کے ساتھ کنیکٹ کرکے مارکیٹ میں ہر نماز کے لیے لوگوں کو سنایا جاسکتاہے، جبکہ مارکیٹ کے پاس تین سے چار مساجد ہیں، جن کی اذان کی آواز مارکیٹ میں بھی سنائی دیتی ہے ، اور لوگ نماز کے لیے جاتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
سائل نے جس مسجد کے متعلق پوچھا ہے اگر اس مسجد میں با قاعدو اذان ہوتی ہو تو اذان کے بعد ریکاڈنگ چلانے کا فائدہ نہیں ، لوگوں کو چاہیے کہ اصل اذان کے بعد نماز کی تیاری کر لیا کریں، تاہم اگر مارکیٹ کی مسجد میں اذان نہ ہوتی ہو تو مو بائل پر اذان چلانے سے مسنون اذان کی ادائیگی نہ ہوگی، بلکہ اگر مارکیٹ میں نماز کی ادائیگی کے لیے جگہ متعین ہو اور وہاں لوگ باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہوں تو وہاں کسی شخص کے ذریعے باقاعدہ اذان کا اہتمام کرنا چاہیے۔
وفي بدائع الصنائع: (منها) - أن يكون رجلا، (إلی قوله) وأما أذان الصبي الذي لا يعقل فلا يجزئ ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور. (ومنها) : أن يكون عاقلا اھ (1/ 150)
وفی الفقه الإسلامي: يشترط في الأذان (إلى قوله) أن يكون المؤذن مسلماً عاقلاً (مميزاً) رجلا اھ (1/ 699)