السلام علیکم !
مفتی صاحب میں نے ایک ایگریمنٹ (معاہدہ) دکانوں کے پلازہ کے مالک کے ساتھ دستخط کیا ہے، میں نے پلازے میں ایک دکان خریدی 1200000 (بارہ لاکھ ) میں ماہانہ دو سالہ قسطوں کے ذریعے، جب میں ساری قسطیں مکمل کروں گا ،دو سالوں میں ، اور دکان اب تک تیار نہ ہوئی ہو، تو پلازے کا مالک مجھے 12000 (بارہ ہزار روپے کرایہ کی مد میں دینا شروع کر دیگا،) یہاں تک کہ دکان مکمل ہو جائے اور مجھے حوالہ کر دے، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ انگر یمینٹ /معاہد ہ درست ہے ؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ کسی پلازے وغیرہ کی تعمیر سے قبل اس میں دکان بک کرانا عقدِ استصناع کہلاتا ہے، اور عقدِ استصناع میں جب تک وہ مطلوبہ چیز حوالے نہ کی جائے، تب تک اسے آگے فروخت کرنا یا اسے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہوتا۔
لہذا سائل نے مذکورہ پلازے میں جو دکان بک کرائی ہے ،وہ جب تک تیار ہو کر سائل کے حوالے نہ کی جائے، تو سائل کے لئے اس دکان کے کرایہ کی مد میں (12000) بارہ ہزار روپے وصول کر نا شرعاً جائز نہیں ، اور معاملہ کرتے وقت اس طرح کی شرط لگانا بھی درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
ففي الدر المختار: (و) لا (بيع بشرط) عطف على إلى النيروز يعني الأصل الجامع في فساد العقد بسبب شرط اھ (5/ 84)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله ولا بيع بشرط) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط «لنهيه - صلى الله عليه وسلم - عن بيع وشرط» اھ (5/ 84)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما شرائط جوازه (فمنها) : بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته؛ لأنه لا يصير معلوما بدونه. (ومنها) : أن يكون مما يجري فيه التعامل بين الناس - من أواني الحديد والرصاص، والنحاس والزجاج، والخفاف والنعال، ولجم الحديد للدواب، ونصول السيوف، والسكاكين والقسي، والنبل والسلاح كله، والطشت والقمقمة، ونحو ذلك - ولا يجوز في الثياب؛ لأن القياس يأبى جوازه، وإنما جوازه - استحسانا - لتعامل الناس، ولا تعامل في الثياب اھ (5/ 3)۔