میرے سسر کا انتقال ہوگیاہے ،اور میری ساس کراچی میں ایک کرایہ کے گھر میں اپنی تین بالغ بیٹیوں اور ایک معذور بالغ بیٹے سمیت رہ رہی ہے میری ساس کا دوسرا بیٹا شادی شدہ ہے وہ بھی کراچی میں ایک الگ گھر میں رہتا ہے ،میری ساس رہنے کیلئے ہمارے پاس سعودی عرب آنا چاہتی ہے حالانکہ اس کی عدت وفات بھی مکمل نہیں ہوئی ہے ،تو کیا اس بات کی اجازت ہے،اس کو کہ عدت کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا گھر چھوڑ کر ہمارے پاس سعودی عرب آجائے ۔
سائل کی ساس کو بلا کسی شرعی عذر کے دوران عدت پاکستان سے سعودی عرب جانا جائز نہیں ،اس پر لازم ہے کہ کہ اپنی عدت اپنے شوہر کے گھر مکمل کرے پھر جہاں جانا چاہے چلی جائے ۔
فی الفتاوى الهندية :على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل اھ(1/535)۔ واللہ اعلم بالصواب
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0