کیا بیوی شوہر کے کہنے پر اپنے بغل اور زیر ناف بال ۴۰ دن سے زیادہ رکھ سکتی ہے؟
واضح ہو کہ بغل اور زیرِ ناف بال ہر ہفتے صاف کرنا مستحب ہے ۔ہفتہ میں صاف نہ کرسکیں تو چالیس دن سے پہلے پہلے کسی بھی وقت صاف کرلینے چاہیے، لیکن چالیس دن کےبعد بھی نہ کاٹنا شرعاً درست نہیں، بلکہ مکروہ تحریمی ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔لہٰذا بیوی کے لیے اس معاملہ میں شوہر کی بات ماننا بھی جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
ففی السنن ابی داود:عن عایشة - رضی اللہ عنھا قالت :قال رسول اللہ ﷺعشر من الفطرة قص الشارب الی قوله علیه السلام ونتف الابط وحلق العانة الی اخرہ ۔(ج:1ص:9 )
وفی المرقاة شرح المشکاة:وعن علی رضی اللہ عنه قال:قال رسول اللہﷺ:لا طاعةفی معصیة،انما الطاعةفی المعروف۔متفق علیه (ج:7 ص:247)
وفیه ایضا:قال الابھری:ولا یترك حلق العانةونتف الابط وقص الشارب والاظفار اکثرمن اربعین یوما لما روی مسلم من حدیث انس:وقت لنا فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط وحلق العانة ان لا تترك اکثر من اربعین لیلة،قال ابن حجر: وحلق العانة ولو للمراةکما اقتضاہ الا طلاق اھ(ج:2ص:379) واللہ أعلم بالصواب!