اقامت کے لیے کیا اذان دینے والے کی اجازت ضروری ہے؟
واضح ہو کہ اگر کسی اور شخص کے اقامت کہہ دینے سے مؤذن کو وحشت اور ناراضگی ہوتی ہو تو ایسی صورت میں مؤذن کے ہوتے ہوئے اس کی اجازت و ضامندی کے بغیر کسی دوسرے شخص کے لیے اقامت کہنا مکروہ ہے، جس سے احتراز کرنا چاہیے، تاہم اگر کسی اور شخص کے اقامت کہنے سے مؤذن کو ناراضگی نہ ہو تو ایسی صورت میں کسی اور شخص کے لیے اقامت کہنا بلا کراہت جائز ہوگا۔
في الدر المختار:(أقام غير من أذن بغيبته) أي المؤذن (لا يكره مطلقا) وإن بحضوره كره إن لحقه وحشة اھ (1/ 395)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: كره إن لحقه وحشة) أي بأن لم يرض به، وهذا اختيار خواهر زاده اھ (1/ 395)
وفی الفتاوى الهندية: وإن أذن رجل وأقام آخر إن غاب الأول جاز من غيركراهة وإن كان حاضرا ويلحقه الوحشة بإقامة غيره يكره وإن رضي به لا يكره عندنا.كذا في المحيط. اھ (1/ 54)
وفیه أیضاً: وإن أذن رجل وأقام آخر إن غاب الأول جاز من غير كراهة وإن كان حاضرا ويلحقه الوحشة بإقامة غيره يكره وإن رضي به لا يكره عندنا. كذا في المحيط. اھ (1/ 54)