السلام علیکم
میں فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کے گھر چلا جاتا ہوں تا کہ گھر کے باقی افراد کو بھی نماز کے لۓ اٹھا ؤوں ، جو ابھی تک نہیں اٹھے ہیں اور اس دوران ذکر کرتا رہتا ہوں پھر اشراق کے وقت اشراق ادا کرتا ہوں ، تو کیا مجھے بھی حج اور عمرے کا ثواب ملے گا ؟ جبکہ میں اشراق کے وقت تک مسجد میں نہیں بیٹھا۔
شراحِ حدیث نے سوا ل میں مذکور فضیلت پر مشتمل حدیث کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس شخص کو بھی فضیلت ملتی ہے جو کہ نمازِفجر جماعت سے پڑھ کر گھر چلا جائے اور سورج طلوع ہونے تک ذکر میں مشغول رہے اور اس کے بعد اشراق کی نماز ادا کرے ، اس لۓ اُمید ہے کہ سائل کو بھی اس کی نیت کے مطابق حج اور عمرہ کا ثواب مل جائے گا۔
فی مشكاة المصابيح : و عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «من صلى الفجر في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة و عمرة . قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «تامة تامة تامة» . رواه الترمذي اھ (1/ 306)۔
و فی مرقاة المفاتيح : (و عنه) ، أي : عن أنس ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «من صلى الفجر في جماعة ، ثم قعد يذكر الله» ، أي : استمر في مكانه و مسجده الذي صلى فيه ، فلا ينافيه القيام لطواف أو لطلب علم أو مجلس وعظ في المسجد ، بل و كذا لو رجع إلى بيته و استمر على الذكر حتى تطلع الشمس ، ثم صلى ركعتين ، قال الطيبي : أي ثم صلى بعد أن ترتفع الشمس قدر رمح حتى يخرج وقت الكراهة ، و هذه الصلاة تسمى صلاة الإشراق و هي أول الضحى (" كانت ") ، أي : المثوبة اھ (2/ 770)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0