گناہ و ناجائز

کیا ظلم کا بدلہ لینا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
4722
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا ظلم کا بدلہ لینا جائز ہے؟

بدلہ لینے کے بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں، کیا بدلہ لینا جائز ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو مارے تو شریعت میں اس بات کی اجازت ہے کہ آپ بھی اس کو ماریں بدلے کی نیت سے؟لوگوں کا کہنا ہے کہ بدلہ لینا حرام ہے،لیکن میں نے بھی کسی مولانا صاحب سے سنا ہے کہ اگر کوئی آپ کو مارے تو آپ اس کو مار سکتے ہیں،براہِ کرم حدیث وفقہ کی روشنی میں جواب دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ بدلہ لینا قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں جائز ہو،مگر معاف کرنا اس سے بھی بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالیٰ فی سورة الشوری: وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ (39) وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (40/الآیة)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الوحید جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4722کی تصدیق کریں
0     791
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات