بدلہ لینے کے بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں، کیا بدلہ لینا جائز ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو مارے تو شریعت میں اس بات کی اجازت ہے کہ آپ بھی اس کو ماریں بدلے کی نیت سے؟لوگوں کا کہنا ہے کہ بدلہ لینا حرام ہے،لیکن میں نے بھی کسی مولانا صاحب سے سنا ہے کہ اگر کوئی آپ کو مارے تو آپ اس کو مار سکتے ہیں،براہِ کرم حدیث وفقہ کی روشنی میں جواب دیں۔
اگرچہ بدلہ لینا قرآن وحدیث اور فقہ کی روشنی میں جائز ہو،مگر معاف کرنا اس سے بھی بہتر ہے۔
کماقال اللہ تعالیٰ فی سورة الشوری: وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ (39) وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (40/الآیة)-