گناہ و ناجائز

جاز کیش سے لون لینا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
47196
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جاز کیش سے لون لینا کیسا ہے؟

محترم مفتی صاحب، جاز کیش والے لون دیتے ہیں اور پھر ملنے کے حساب سے اضائی ر قم وصول کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرض پر مشروط یا معروف نفع لینا از روئے شرع ناجائز و حرام ہے، اگر جاز کیش کی طرف سے بھی دیا جانے والا لون اضافی رقم سے ساتھ مشروط ہو، تو ایسا لون لینا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی ردالمحتار: [مطلب كل قرض جر نفعا حرام] (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر،الخ (5۔166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47196کی تصدیق کریں
0     552
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات