گناہ و ناجائز

جس دوست کا ننھیال قادیانی اور بیوی شیعہ ہو اس سے امداد لینا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
47051
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جس دوست کا ننھیال قادیانی اور بیوی شیعہ ہو اس سے امداد لینا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب میرا ایک بچپن کا قریبی دوست ہے؟ اس کا ننھیال قادیانی ہے ؟ اس کے چھوٹے بھائی نے اپنی خالہ زاد قادیانی لڑکی سے شادی کر لی ہے؟ اور میرے دوست نے ایک کٹر اہل شیعہ لڑکی سے اور دونوں نے شادیاں قادیانی اور شیعہ عقائد کے مطابق کی ہیں، میں ایک مڈل طبقہ کا فرد ہوں، اور میرا یہ دوست میری کافی مدد کرتا ہے ، جس سے گزر بسر میں آسانی ہوتی ہے ، اگر میں اپنے دوست سے قطع تعلق کرتا ہوں تو میں اپنے بچے کو نہیں پڑھا سکتا؟ کہیں اپنے دوست سے مدد لے کر میں گناہ گار تو نہیں ہو رہا؟ میں نے اپنے دوست کو بہت سمجھایا بھی ہے ؟ کیا میں اپنے دوست سے بالکل قطعِ تعلق کر دوں یا اس سے امداد لےکر اپنے بچے کو پڑھا سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ سائل کا مذکور دوست بھی قادیانی ہے یا نہیں تاہم اگر سائل کا مذکور دوست قادیانی نہ ہو، بلکہ اس نے فقط شیعہ گھرانے کی لڑکی سے شادی کر لی ہو، اور وہ شیعہ لڑکی کفریہ عقائد کی حامل بھی نہ ہو، تو سائل کے دوست کا نکاح درست منعقد ہو چکا ہے ، لہٰذا سائل کے لیے اپنے دوست سے مالی امداد لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو، تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ ای میل کر دے ، اس پر غور و فکر کرنے کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: فقد روى محمد رحمه الله في «السير الكبير» أخباراً متعارضة في بعضها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل هدايا المشرك، و في بعضها أنه لم يقبل، فلا بد من التوفيق، واختلفت عبارة المشايخ في وجه التوفيق، (إلی قوله) ومن المشايخ من وفق من وجه آخر، فقال: لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه تقل صلابته وعزمه في حقه، وبين له بسبب قبول الهدية على ما قال عليه السلام: «الهدية تذهب وحر الصدر» ومتى كانت الحالة هذه لا يجوز قبول الهدية؛ لأن سبيل المسلم أن يكون غليظاً شديداً على الكفرة، وقبل من شخص علم أنه لا تقل صلابته، وعزمه في حقه، ولا يلين له بسبب قبول الهدية. اھ (5/ 362، 363)
وفيه ايضاً : وحاصل المذهب فيه أنه إن كان أكثر ماله من الرشوة والحرام لم يحل قبول الجائزة منه ما لم يعلم أن ذلك له من وجه حلال، وإن كان صاحب تجارة وزرع وأكثر ماله من ذلك، فلا بأس بقبول الجائزة ما لم يعلم أن ذلك له من وجه حرام، و في قبول رسول الله عليه السلام الهدية من بعض المشركين دليل على ما قلنا اھ (5/ 367)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47051کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات