مفتی صاحب میری ایک بہن نے اپنے خاوند سے علیحدگی کر لی تھی جس کے بعد وہ چھ سال سے الگ رہ رہے ہیں اور دو سال پہلے اس نے کورٹ کے ذریعے خلع لی تھی اب وہ دوسری شادی کرنا چاہتی ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور ایجاب و قبول شرط ہے جو عموماًعد التی خلع میں مفقود ہوتا ہے لہذا سائل کی بہن نے بھی اگر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لی ہو ، تو اس ڈگری کے جاری ہونے کے باوجود سائل کی بہن کا نکاح اس کے شوہر سے ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا اس خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کردوسری جگہ نکاح کر ناشر عاً جائز نہیں , جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے، تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو تو شوہر سے با قاعدہ طلاق یا خلع لیکر اسکی عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرنا بھی درست ہو گا۔
كما في احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (الى قوله ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3، ص (153)
وفي المحيط البرھاني: ومن جانب المرأۃ يعتبر الايجاب والقبول كما في البيع (60/5) وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض ... الخ (ج 3، ص (453)
وفي بدائع الصنائع : ان الخلع في معنى المبارأة لان المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين الحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون - اھ(152/3)