گناہ و ناجائز

سلینڈر میں کم گیس بھروا کر زیادہ پیسے وصول کرنا

فتوی نمبر :
45839
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سلینڈر میں کم گیس بھروا کر زیادہ پیسے وصول کرنا

السلام علیکم! میرا L, P, G گیس کا کاروبار ہے، اس کے بارے میں ایک چیز جاننا میں ضرورری سمجھتا ہوں وہ درج ذیل ہے:
ہمارے ہاں L, P, Gسیلنڈر کی پیمائش 11,9کلو گرام ہے ، ہم LPG پلانٹ سے گیس ۱۱.۸ کلو گرام کی رقم پر خریدتے ہیں، لیکن سیلینڈر میں 1,6K گیس ہوتی ہے اور پلانٹ والے ہمیں بتا کہ بھرتے ہیں کہ 200 گرام گیس کم بھری جارہی ہے، کیونکہ 200 گرام گیس بھرنے کے دوران ضائع ہو جاتی ہے، آیا کہ0 20 گرام گیس کم سیلینڈر میں بھرے جانا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر فریقین کا معاملہ فی کلو کی قیمت کے حساب سے طے پاتا ہو تو LPG پلانٹ والے کا 11,8kg کی رقم لے کر ۱۱،۶ کلو گرام سیلینڈر میں بھرنا اور یہ کہنا کہ 200 گرام بھرنے کے دوران ضائع ہو جاتی ہے جائز نہیں ، ان پر لازم ہے کہ جتنی گیس بھر کر دی ہے اتنی گیس کی قیمت کسٹمر سے وصول کرے، اس سے زیادہ قیمت حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وأجرة كيل ووزن وعد وذرع على بائع) ؛ لأنه من تمام التسليم (وأجرة وزن ثمن ونقده) وقطع ثمر وإخراج طعام من سفينة (على مشتر) إلا إذا قبض البائع الثمن ثم جاء يرده بعيب الزيافة. (4/ 560)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وأجرة وزن ثمن ونقده) أما كون أجرة وزن الثمن على المشتري فهو باتفاق الأئمة الأربعة، وأما الثاني فهو ظاهر الرواية وبه كان يفتي الصدر الشهيد وهو الصحيح كما في الخلاصة؛ لأنه يحتاج إلى تسليم الجيد، وتعرفه بالنقد كما يعرف المقدار بالوزن ولا فرق بين أن يقول دراهمي منقودة أو لا هو الصحيح خلافا لمن فصل وتمامه في النهر (4/ 560) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 45839کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات