گناہ و ناجائز

سود کے پیسے رشوت وغیرہ کے کاموں میں استعمال کرنا

فتوی نمبر :
45027
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سود کے پیسے رشوت وغیرہ کے کاموں میں استعمال کرنا

السلام علیکم !
میرا سوال ہے کہ میرے شوہر نے لائف انشورنس کی پالیسی لی تھی، بعد میں جب اس کے بارے میں معلوم ہوا، تو انہوں نے 8 سال کے بعد ختم کر دی ہے، میر اسوال بنیادی طور پر یہاں یہ ہیکہ جو رقم میرے شوہر نے وصول کی ہے، اس میں سے جتنے انہوں نے ادا کیے تھے ، وہ رکھ لیں، اور جو اوپر نفع ملا ہے، کیا وہ اس کو استعمال کر سکتے ہیں؟ اپنے ان کاموں میں جو وہ ناجائز لوگوں کو رشوت کے طور پر دینا پڑتا ہے ، کیوں کہ وہ ایک سرکاری ملازمت پے ہیں، وہاں جائز کام کے لئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے، تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اس نفع کو وہاں دیدیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لائف انشورنس کی پالیسی چونکہ جوا، غرر اور سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوتی ہے ، اس لئے اصل رقم کے علاوہ جورقم ملے وہ نا جائز اور حرام ہوتی ہے، لہذا حرام ذرائع سے حاصل کی گئی ایسی رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو، یا اس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اس رقم کو بلانیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کیا جائے ، اس لئے سائلہ کے شوہر کو انشورنس کمپنی کی طرف سے جو اضافی رقم ملی ہے ، وہ لوگوں کو رشوت کے طور پر دینادرست نہیں، بلکہ اسے بلانیتِ ثواب صدقہ کر دینا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين: ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اھ (6/ 385)۔
وفيه أیضاً: إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، (إلی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ (5/ 99)۔
وفيه أیضاً: الدفع إلى الفقير غير قيد بل مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجدا ونحوه مما يرجو به التقرب؛ لأن العلة رجاء الثواب فيما فيه العقاب ولا يكون ذلك إلا باعتقاد حله (قوله: إذا تصدق بالحرام القطعي) أي مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلاله كما مر فافهم اھ (2/ 292)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رضوان عبد الحلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 45027کی تصدیق کریں
0     479
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات