گناہ و ناجائز

فروخت کردہ چیز کی واپسی پر کٹوتی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
44677
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فروخت کردہ چیز کی واپسی پر کٹوتی کرنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب !
دوکاندار کا فروخت کردہ چیز کے واپس لینے پر کٹوتی کرنا کیسا ہے ؟ رہنمائی فرماکر ممنون فرمائیں جزاکم الله ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دکاندار نے جو چیز گاہک کو فروخت کی ہے، اگر وہ صحیح سالم ہو ، اس میں کوئی عیب نہ ہو ، لیکن کسی وجہ سے سے گاہک کو وہ چیز پسند نہ ہو، تو ایسی صورت میں دکاندار کے ذمہ اس چیز کو لینا شر عاًلازم اور ضروری نہیں، البتہ اگر وہ اس کو واپس لینا چاہے تو یہ بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، لیکن فقط اس چیز کی واپسی پر کٹوتی کر ناشر عاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح ابن حبان: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة ) (۱۱/٤٠٤) ۔
وفي جامع الأحاديث: من أقال أخاه المؤمن عثرته فى الدنيا أقال الله عثرته يوم القيامة (ابن النجار عن أبى هريرة) 21420- من أقال مسلمًا بيعًا أقال الله نفسه يوم القيامة ومن وصل صفًّا وصل الله خطوه يوم القيامة (عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبى كثير مرسلاً) أخرجه عبد الرزاق (2/56، رقم 2468) . 21421- من أقال مسلمًا عثرته أقال الله عثرته يوم القيامة (ابن حبان، والبيهقى عن أبى هريرة) (20/ 33، بترقيم الشاملة آليا)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدفیصل ابوبکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44677کی تصدیق کریں
0     718
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات