مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے ماما یعنی انکل کی بیوی کو موٹر سائیکل پر لے جارہا تھا اور مجھے دو بار غیر ارادی طور پر انزال ہو گیا، اس وقت میں غیر شادی شدہ تھا اور مجھے (Anxiety OCD) بیماری بھی ہے، میرا اور اس کا رشتہ بھائی بہن جیسا ہے تو کیا غیر شادی شدہ شخص پر حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور اس سے میرے ماموں اور مامی کے رشتہ پر کوئی اثر ہو گا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ اصولی طور پر غیر شادی شدہ شخص پر بھی حرمت مصاہرت کے احکام لاگو ہوتے ہیں، لیکن صورت مسئولہ میں جب سائل کو انزال بھی ہو گیا تھا، تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی اور سائل کے ماموں اور مامی کے نکاح پر شرعاً کوئی اثر بھی نہیں پڑا، مگر مامی چونکہ غیر محرم ہوتی ہے، اس لئے آئندہ کیلئے مذکور طرز عمل سے احتر از لازم ہے۔
کما في الدر المختار: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا اھ (3/ 32)
وفيه ايضاً: فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي اھ
وفي رد المحتار تحت: (قوله: فلا حرمة) لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء هداية قال في العناية: ومعنى قولهم إنه لا يوجب الحرمة بالإنزال أن الحرمة عند ابتداء المس بشهوة كان حكمها موقوفا إلى أن يتبين بالإنزال، فإن أنزل لم تثبت، وإلا ثبت لا أنها تثبت بالمس ثم بالإنزال تسقط؛ لأن حرمة المصاهرة إذا ثبتت لا تسقط أبدا اھ (3/ 33)