گناہ و ناجائز

"میرا پاکستان میرا گھر اسکیم" کا حکم

فتوی نمبر :
44292
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

"میرا پاکستان میرا گھر اسکیم" کا حکم

"میرا پاکستان میرا گھر" اسکیم ہے اور یہ درست اسکیم ہے، کہ اس کی خصوصیت مفت زندگی بیمہ، سودی ریٹ پر امداد فراہم کرتا ہے، پچاس (50) لاکھ سے اوپر، بیس (20) سال تک ، آسان دستاویزات، فوری لائحہ عمل ، جلد از جلد ادائیگی پر کوئی پابندی اور کوئی چار جز نہیں" میرا پاکستان میرا گھر"۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہماری معلومات کے مطابق مذکور اسکیم " میرا پاکستان میرا گھر " کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کو پلاٹ یا گھر کی خریداری کے لئے سودی بینکوں کی طرف سے سودی قرضہ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ سودی قرضہ لینا دینا قرآن وسنت کی روسے ناجائز اور حرام ہے، لہذا مذکور اسیکم کے تحت کسی بھی سودی بینک یا ادارے سے سودی قرض حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر سائل سودی بینکوں کے ساتھ مذکور معاملہ کرنے کے بجائے مستند علماءِ کرام پر مشتمل شریعہ بوڈ کے زیر نگرانی اپنے معاملات سرانجام دینے والے کسی غیر سودی بینک کے توسط سے بیع مرابحہ، شرکت متناقصہ وغیرہ کسی شرعی اصولوں کے تحت مذکوراسکیم کے ذریعہ گھر یا پلاٹ لینا چاہے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ ال عمران ایۃ 130)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم (2/855 )۔
و فی ردالمحتار: تحت [مطلب كل قرض جر نفعا حرام] (الی قولہ) (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، الخ (5/166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44292کی تصدیق کریں
0     506
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات