میر اسوال یہ ہیکہ میرا ایک بینک اکاونٹ ہے جو کہ سیونگ اکاونٹ ہے، میں ڈاکٹر ہوں اور اس میں ہر مہینہ تنخواہ آتی ہے، اب ہر چھ مہینے بعد مجھے اس میں پرافٹ آرہا ہے جو کہ سود کے پیسے ہیں، اور مجھے پتہ ہیکہ وہ پیسے مجھ پر حرام ہیں، کیونکہ وہ اضافی آرہے ہیں، تو میں ہر چھ مہینے میں وہ پیسے نکال کر الگ رکھ لیتی ہوں، اور جب کوئی ضرورت مند بندہ ملتا ہے، تو اس کو وہ پیسے دے دیتی ہوں، ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دیتی ہوں، مگر اپنے اوپر وہ اضافی پیسے کبھی بھی خرچ نہیں کرتی ، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ کیا ان سود کے پیسوں سے کسی اور کی مدد کرنا جائز ہے؟ جیسے کسی کے گھر رنگ کروادیا، یا کسی غریب کو ان پیسوں سے کپڑے دلوا دیے ، تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو ان پیسوں کا پھر کیا کیا جائے؟
واضح ہو کہ کسی کنونشنل (سودی) بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا سودی لین دین کا ارتکاب ہے، جو شرعاً نا جائز اور حرام ہے، لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ مذکور سودی بینک سے اپنا سیونگ اکاؤنٹ ختم کرے، اور ابھی تک جو اضافی سودی رقم حاصل ہوئی ہو وہ بغیر نیتِ ثواب کسی مستحق کو مالک بنا کر دیدے، جبکہ سائلہ کیلیے اپنی ضرورت پوری کرنے کے واسطے کسی اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ یا کسی کنونشنل بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔
قال الله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَوا﴾ (البقرة: 275) ۔
وفي الدر المختار: لو مات مسلم وترك ثمن خمر باعه مسلم لا يحل لورثته كما بسطه الزيلعي اھ
وفي رد المحتار: (تحت قوله كما بسطه الزيلعي) لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا یأخذون منه شیئا وھو أولیٰ بھم ویردونھا علی أربابھا إن عرفوھم، وإلا تصدقوا بھا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدیق إذا تعذر الرد علی صاحبه اھ (۶/ ۳۸۵)۔