السلام علیکم!
میں نے گناہ سے بچنے کے لئے ایک طلاق یافتہ عورت سے ایجاب و قبول کیا ہے دو گواہوں کے سامنے، اس کے گھر والے نہیں مان رہے ابھی ، لیکن ہم نے گناہ سے بچنا تھا، تو کیا ہمارا نکاح جائز ہے؟ ہم میاں بیوی ہیں؟ ہمارا ملنا اور ایک دوسرے کے لئے میسر ہونا جائز ہے ؟کیا ہمارا نکاح ہو گیا ہے ؟
مذکور نکاح اگر گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول اور مہر کے تقرر کے ساتھ کفؤ میں ہوا ہو تو ایسا نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہو چکا ہے، دونوں کا میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا جائز اور درست ہے، مگر جوان لڑکے اور لڑکی کا اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی والا معاملہ ہے ، شریف خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لئے سائل اور اس کی ہونے والی بیوی کو چاہیئے کہ اپنے اولیاء کو رضامند کر کے اپنی آئندہ کی زندگی کو درپیش مسائل سے محفوظ بنائیں۔
کما فی الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت)۔اھ (3/9)