گناہ و ناجائز

حلال جنگلی جانوروں اور پرندوں کے شکار کرنے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
43285
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حلال جنگلی جانوروں اور پرندوں کے شکار کرنے کی شرعی حیثیت

کیا حلال جنگلی جانوروں اور پرندوں کا شکار کسی خاص صورت حال میں کرنا جائز ہے، یا صرف اپنے مزے کے لئے بھی شکار کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ شکار کرنے والے کے پاس کھانے کی بھی کمی نہ ہو ،اور وہ بازار سے بھی گوشت خریدنے کی طاقت رکھتا ہو، ایسے میں یہ عذر کہ بازار سے ان کا پسندیدہ گوشت نہیں ملتا، کیا جائز ہے ؟ جیسا کہ آج کل ہر کوئی گن لے کر شکاری بنا ہوا ہے ،صرف اپنی تسکین کے لئے - تو اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ سب کرنا درست اور جائز ہے ان حالات کو مدِ نظر رکھ کر ؟ یا شکار صرف ضرورت کے لئے کیا جائے ,جس کے پاس دوسرے ذرائع سے پیٹ بھرنے کو کچھ نہ ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسبِ معاش یا کسی اور ضرورت کے طور پر جانوروں کا شکار کرنا تو جائز ہے، مگر محض کھیل کود اور نشانہ بازی کے طور پر شکار کرنا درست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (إلا) لمحرم في غير المحرم أو (للتلهي) كما هو ظاهر (أو حرفة) على ما في الأشباه. قال المصنف: وإنما زدته تبعا له، وإلا فالتحقيق عندي إباحة اتخاذه حرفة لأنه نوع من الاكتساب اھ (6/ 462)۔
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (قوله لأنه نوع من الاكتساب) وبذلك استدل في الهداية على إباحة الاصطياد بعد استدلاله عليه بالكتاب والسنة والإجماع، (إلی قوله) و في التتارخانية قال أبو يوسف: إذا طلب الصيد لهوا ولعبا فلا خير فيه وأكرهه، وإن طلب منه ما يحتاج إليه من بيع أو إدام أو حاجة أخرى فلا بأس به اهـ (6/ 462) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وقار احمد زید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 43285کی تصدیق کریں
0     594
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات